خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 188
188 (7) اردو (8) عربی (9) فارسی (10) اسلامیات اختیاری مئی 1952ء میں نئے داخلہ کے بعد کالج میں دونئے مضامین فلسفہ اور حساب کا بھی اضافہ کر دیا گیا۔تعداد طالبات: گزشتہ سال کالج میں صرف 16 طالبات داخل ہوئیں اور مئی 1952 ء میں فرسٹ ایئر میں 13 طالبات گویا اس وقت جامعہ نصرت کی طالبات کی کل تعداد 29 ہے۔آمد و خرچ : جامعہ نصرت کا گزشتہ سال کا بجٹ -/4500 روپے تھا۔اور سالانہ خرچ2496/15/6 سائر اخراجات کالج 6072/13 تھے۔جس میں سے 6049/2/6 خرچ ہوئے۔فیسوں کی آمدن-/1080 ہوئی۔وظائف : ہمارا کالج صحیح معنوں میں غرباء کا کالج ہے۔اس لئے جس قدر بھی مراعات طالبات کو دی جاسکتی تھیں دی گئیں۔61 طالبات میں 9 ایسی ہیں جو وظیفہ حاصل کر رہی ہیں۔تحریک وقف زندگی : حضرت اقدس نے 1950ء میں جماعت کی مستورات میں تحریک فرمائی تھی کہ لڑکیاں بھی لڑکوں کی طرح اپنے آپ کو وقف کریں۔تا کہ ان کو اعلیٰ تعلیم دلوا کر سلسلہ کے کاموں کے لئے تیار کیا جاسکے۔چنانچہ دو واقف زندگی طالبات کا لج میں داخل ہوئیں۔جن کو انشاء اللہ تعالیٰ اعلیٰ تعلیم دلوا کر کالج کے سٹاف کے لئے تیار کیا جائے گا۔اس کالج کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہاں دینیات کی تعلیم کا بہت مکمل انتظام ہے۔دینیات لازمی مضمون ہے۔اور اس کے لئے دو گھنٹیاں ( پیریڈ ) رکھی گئی ہیں۔قرآن مجید کی تفسیر کے پندرہ پارے ایف۔اے کا اور پندرہ بی۔اے کے نصاب میں رکھے گئے ہیں۔تا کہ جولڑکی گریجوایٹ ہوکر یہاں سے جائے وہ سارے قرآن مجید کی تفسیر کے علاوہ حدیث شریف جانتی ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی کتب بھی کورس میں شامل ہیں۔نیز جماعت احمدیہ کے امتیازی مسائل پر ان کو لیکچر دئے جاتے ہیں۔دیگر علمی مشاغل : طالبات کو صرف کتاب کا کیڑا ہی نہیں بنایا جاتا بلکہ ان کو تقریر وغیرہ کی بھی مشق کروائی جاتی ہے۔اور