خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 156 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 156

156 قصوں کے رنگ میں نہیں ہیں بلکہ ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کر کے خودان نشانوں کو پالیتے ہیں لہذا معائنہ اور مشاہدہ کی برکت سے ہم حق الیقین تک پہنچ جاتے ہیں سو اس کامل اور مقدس نبی کی کس قدرشان بزرگ ہے جس کی نبوت ہمیشہ طالبوں کو تازہ ثبوت دکھلاتی رہتی ہے اور ہم متواتر نشانوں کی برکت سے اس کمال سے مراتب عالیہ تک پہنچ جاتے ہیں کہ گویا خدا تعالیٰ کو ہم آنکھوں سے دیکھ لیتے ہیں۔پس مذہب اسے کہتے ہیں اور سچا نبی اِس کا نام ہے جس کی سچائی کی ہمیشہ تازہ بہار نظر آئے۔۔۔خدا تعالیٰ نے ہر ایک زمانہ میں اس کامل اور مقدس کے نشان دکھانے کیلئے کسی نہ کسی کو بھیجا ہے اور اس زمانہ میں مسیح موعود علیہ السلام کے نام سے مجھے بھیجا ہے۔دیکھو ! آسمان سے نشان ظاہر ہورہے ہیں اور طرح طرح کے خوارق ظہور میں آرہے ہیں۔اور ہر ایک حق کا طالب ہمارے پاس رہ کر نشانوں کو دیکھ سکتا ہے وہ عیسائی ہو یا یہودی یا آریہ۔یہ سب برکات ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہیں۔و روحانی خزائن جلد 13 کتاب البریہ ص 155، 156 حاشیہ ) پس یہ حقیقت ہے کہ جس طرح اسلام کا خدا زندہ خدا ہے اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم زندہ نبی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو اپنی صفات کے کامل ظہور کیلئے پیدا کیا۔اللہ تعالیٰ کی کامل تجلی آپ ﷺ پر ہوئی آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں انتہائی درجہ تک فنا ہو کر وہ اعلیٰ ترین مقام حاصل کیا کہ اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا۔ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّى فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنَ أَوْ أَدْنى (الجم :10,9) یعنی آپ اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے درمیان ایک واسطہ بن گئے فیض پہنچانے کا اور یہ واسطہ آپ صرف اپنے زمانہ کیلئے نہیں تھے بلکہ ہمیشہ کیلئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے دستور قرار دیا گیا کہ اب اللہ تعالیٰ کا قرب صرف آپ کے ہی واسطہ سے ملے گا۔اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کو اپنا قول قرار دیا جیسا کہ فرمایا وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الهَوَى إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى (النجم : 5۔4) کہ آپ جو کچھ کہتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی وحی اور اس کی مرضی اور حکم سے کہتے ہیں۔گویا آپ کی زبان اپنی زبان نہ رہی بلکہ خدا تعالیٰ کی زبان بن گئی۔اللہ تعالیٰ نے آپ کے ہاتھ کو اپنا ہاتھ قراردیا جیسا کہ فرمایا إِنَّ الَّذِينَ يُبَايِعُونُكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللهَ يَدُ اللهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ (الفتح: 11)