خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 139
139 بیخ کنی کرنا ہے۔آپ نے خطبہ جمعہ 15۔اپریل 1966 ء میں فرمایا تھا۔پہلا امتحان اور آزمائش وہ احکام الہی یا تعلیم الہی ہے جو ایک نبی اللہ تعالیٰ کی طرف سے لے کر آتا ہے اور جس تعلیم کے نتیجہ میں مومنوں کو کئی قسم کے مجاہدات کرنے پڑتے ہیں۔بعض دفعہ اپنے مالوں کو قربان کرنے سے اور بعض دفعہ اپنی عزتیں اور وجاہتیں اللہ تعالیٰ کے لئے نچھاور کرنے سے “ اسی تسلسل میں آپ فرماتے ہیں۔"خدا تعالیٰ کے احکامات میں ایک حصہ نواہی کا ہے یعنی بعض باتیں ایسی ہیں جن سے وہ روکتا ہے مثلاً د نیوی رسم و رواج ہیں جن کی وجہ سے بعض لوگ اپنی استطاعت سے زیادہ بچوں کی بیاہ شادی پر خرچ کر دیتے ہیں حالانکہ وہ اسراف ہے جس سے اللہ تعالیٰ منع فرماتا ہے۔وہ کہتے ہیں اگر ہم نے رسم و رواج کو پورا کرنے کے لئے خرچ نہ کیا ہمارے رشتہ داروں میں ہماری ناک کٹ جائے گی۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میری خاطر رسم و رواج کو چھوڑ کر اپنی ناک کٹواؤ تب تمہیں میری طرف سے عزت کی ناک عطا کی جائے گی۔“ الفضل 20 اپریل 1966 19۔اگست 1966 ء کے خطبہ جمعہ میں حضرت خلیفہ اسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے پھر جماعت کو اس طرح توجہ دلائی کہ جماعت میں رسومات پھر سر اٹھا رہی ہیں اور ان کا تدارک کرنا چاہیے۔آپ فرماتے ہیں۔پس میں جماعت کو اس طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ تحریک جدید کے وہ مطالبات جو سادہ زندگی سے تعلق رکھتے ہیں ان کو جماعت میں دہرایا جائے اور افراد جماعت کو پابند کیا جائے کہ وہ ان مطالبات کی روشنی میں اپنی زندگیوں کو سادہ بنائیں۔اس طرح بعض جگہ سے شکایت آتی رہتی ہے کہ بعض خاندانوں میں رسوم اور بدعات عود کر رہی ہیں مثلاً شادی کے موقع پر اسراف کی راہوں کو اختیار کیا جاتا ہے بعض لوگ تو اس کے نتیجہ میں مقروض ہو جاتے ہیں اور پھر ساری عمر ایک مصیبت میں گزارتے ہیں یہ تو وہ سزا ہے جو اللہ تعالیٰ ان کو اس دنیا میں دے دیتا ہے لیکن ایک اور سزا ہے جو بظاہر ان کو نظر نہیں آتی کہ اس کے نتیجہ میں وہ بہت سی ایسی نیکیوں سے محروم ہو جاتے ہیں کہ اگر وہ سادگی کو اختیار کرتے اگر وہ رسوم کی پابندی کو چھوڑ دیتے تو اللہ تعالیٰ ان کو ان نیکیوں کی توفیق عطا کرتا۔“ الفضل 8 ستمبر 1969ء لجنہ اماءاللہ کے گزشتہ سالانہ اجتماع کے موقع پر بھی (22 اکتوبر 1966) حضرت خلیفہ اسیح الثالث