خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 138
138 حضرت خلیفتہ اسح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی جاری کردہ تحریکات میں سے ایک ضروری تحریک۔۔۔۔۔۔ترک رسومات الفضل 18 مئی 1967ء میں مکرمی محترمی مسعود احمد خان صاحب کا ایک مضمون شائع ہوا جس میں آپ نے احباب جماعت کو ان تمام تحریکات کی طرف توجہ دلائی ہے جو حضرت خلیفہ اسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ نے سریر آرائے خلافت ہونے کے بعد جماعت کے سامنے رکھی ہیں۔لیکن ایک تحریک کا ذکر ان سے رہ گیا ہے۔چونکہ اس کا تعلق خاص طور پر مستورات سے ہے اس لئے میں نے ضروری سمجھا کہ اس کے متعلق بھی احباب جماعت خصوصاً مستوارت کو توجہ دلاؤں۔اس سے قبل بھی حضور کے ارشادات کی روشنی میں جہاں بھی اور جب بھی تقریر کرنے کا موقع ملا اس طرف مستورات کو توجہ دلاتی رہی ہوں اللہ تعالیٰ انہیں عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔تفصیل میں جانے سے قبل اصولی طور پر بہنوں کو قرآن مجید کی اس تعلیم کی طرف توجہ دلاتی ہوں کہ اَطِيْعُو اللَّهَ وَأَطِيعُو الرَّسُولَ وَأُولِي الأمْرِ مِنْكُمُ۔(النساء : 60) اللہ تعالیٰ اور آنحضرت ﷺ کی اطاعت کے ساتھ ساتھ خلفاء کی اطاعت ہم پر فرض ہے اور بغیر مکمل اطاعت کے ترقی ناممکن۔ہر تحریک جو خلیفہ وقت کی طرف سے پیش ہو اس پر ہر مرد عورت اور بچہ کا لبیک کہنا ضروری ہے۔تمام تنظیموں کا کام بھی یہی ہونا چاہئے کہ خلیفہ وقت کی تحریکات کو چلانے میں اپنی قوتیں بروئے کارلائیں۔حضرت مصلح موعود نے بھی جب لجنہ اماء اللہ کا قیام فرمایا تو تو لجنہ کے دستور کی ایک شق یہ قراردی که اس امر کی ضرورت ہے کہ جماعت میں وحدت کی روح قائم رکھنے کے لئے جو بھی خلیفہ وقت ہو اس کی تیار کردہ سکیم کے مطابق اور اس کی ترقی کو مد نظر رکھ کر تمام کاروائیاں ہوں۔“ الازهار لذوات الخمار صفحہ 53 گویا لجد اماءاللہ کے تمام پروگرام اس امر کو مدنظر رکھ کر بنائے جائیں کہ ان پر عمل پیرا ہونے کے ساتھ خلیفہ وقت کی پیش کردہ تحریکات کی تکمیل ہو سکے۔حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے جو تحریکات جماعت کے سامنے رکھی ہیں ان میں سے ایک تحریک جماعت سے رسومات کی