خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 136
136 باندھتے ہیں۔سہرا منگوالیا۔حضور کو پتہ لگا ناراض ہوئے کہ ہم نے تو دنیا کے لئے نمونہ بنا ہے اور رسوم اور بدعتوں کو مٹانا ہے ابھی سہرا میرے پاس لاؤ۔آپ کے پاس پہنچا دیا گیا کہنے لگے میں ابھی جلاؤں گا تا ہمارے گھر میں آئندہ سبق حاصل ہو کہ رسم نہیں ہوگی۔آپ سہرا ہاتھ میں پکڑے ہوئے باورچی خانہ کی طرف جارہے تھے کہ چولہے میں ڈال دیں۔راستہ میں صحن میں حضرت اماں جان بیٹھی تھیں۔آپ نے دریافت فرمایا کیا معاملہ ہے؟ آپ نے سارا واقعہ بتا دیا۔حضرت اماں جان فرمانے لگیں۔”میاں شادی کا سامان تو سہاگ کی نشانی ہوتا ہے۔جلاؤ نہ پھینک دو۔آپ نے اس پر جلایا تو نہیں مگر قیچی منگوا کر ذرہ ذرہ کر کے کوڑے کے پیپہ میں ڈال دیا۔اس واقع میں دو بڑے سبق ہیں ایک تو یہ کہ سہرا صرف گھر میں آیا تھا لگایا نہیں گیا تھا۔لیکن آپ نے اس غرض سے کہ جماعت اور خاندان کی تربیت ہو وہ رسوم چھوڑیں۔اس کو جلانے کا ارادہ کر لیا۔اور دوسری طرف حضرت اماں جان کا کتنا احترام تھا کہ جب آپ نے جلانے سے منع فرمایا تو آپ کے فرمانے کے مطابق عمل کیا۔لیکن افسوس ہے کہ اب بھی ہماری جماعت میں کثرت سے ایسے خاندان ہیں جن میں شادیوں پر بڑی رسوم ہوتی ہیں۔خاص طور پر سسرال کو جوڑے دینے لڑکی والوں سے ان کی حیثیت سے زیادہ کے مطالبے کرنے جن کے متعلق کئی بار حضرت مصلح موعود نے شورٹی میں منع فرمایا اور غریب گھرانے نمودونمائش کی خاطر مالی بحران میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔کاش ہماری جماعت کے لوگ حضرت مصلح موعود کا نمونہ دیکھیں اور آپ کی نصائح اور نمونہ پر عمل کرتے ہوئے رسوم کو چھوڑیں جن رسوم کو دور کرنے اور بدعتوں سے پاک کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام تشریف لائے تھے۔اسی طرح ایک دفعہ ایک بچی نے دکان سے ایک بلاؤز خرید لیا۔یہ خیال نہ کیا کہ نیم آستین ہے خوبصورت اور نئی قسم کی چیز تھی۔پہنا حضور نے دیکھ لیا اسی وقت کہا کہ ابھی جا کر بدلو اور یہ میرے پاس لے کر آؤ۔جب اس بچی نے حضور کے حکم کی تعمیل کی تو وہ بلاؤز لے کر قینچی سے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا تا پھر کسی اور کو اس کی خلاف ورزی کرنے کی جرات نہ ہو۔جب کبھی کسی خاص امر کے لئے دعا کر رہے ہوتے تو بیویوں اور بچوں کو بھی دعا کے لئے کہا کرتے تھے اور یہ بھی کہنا کہ آجکل اس معاملہ میں دعا کی بہت ضرورت ہے۔چندہ کی تحریک کرنی تو اس بات کا خیال رکھنا کہ سب بچے وغیرہ کتنا کتنا چندہ لکھواتے ہیں اگر کسی نے کم لکھوانا تو اس کو متوجہ کرنا کہ تم اس سے زیادہ قربانی کر سکتے ہو یا کسی نے چندہ لکھوا کر ادا ئیگی میں دیر کر نی تو