خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 135
135 گھر میں ہی دو نفل پڑھ کر روانہ ہوتے تھے۔مجھے کبھی آپ کا سفر یاد نہیں کہ آپ یونہی روانہ ہوئے ہوں۔حضرت اماں جان کی وفات کے بعد اکثر مجھے یاد ہے کہ لا ہور وغیرہ جاتے ہوئے راستہ میں بہشتی مقبرہ ربوہ میں ٹھہر کر دعا فرما کر روانہ ہوا کرتے تھے۔سفر میں آپ کی جیب میں چھوٹی حمائل ہمیشہ رہتی۔اور اکثر راستہ میں قرآن مجید کی تلاوت فرماتے رہتے۔قرآن مجید کے سلسلہ میں ایک واقعہ یاد آیا۔ایک دفعہ جلسہ کے لئے میں نے تقریر تیار کرنی تھی۔میں نے حضور کی خدمت میں عرض کی کہ مجھے سمجھ نہیں آتی کس موضوع پر تقریر کروں فرمانے لگے یہ بھی کوئی مشکل بات ہے۔قران مجید کھولو۔جس آیت پر سب سے پہلے نظر پڑے اس کے مطابق مضمون تیار کرلو۔فرمانے لگے۔میرا تو یہی طریق رہا ہے۔سوائے اس کے کہ کسی خاص سلسلہ میں خطبہ جمعہ میں کوئی مضمون بیان کرنا ہو عموماً جمعہ پر جاتے ہوئے قرآن مجید ہاتھ میں لے کر دعا کر کے کھولتا ہوں۔جہاں سے ورق کھلتے ہیں جو آیات سب سے پہلی بار نظر آتی ہیں وہی مضمون بیان کر دیتا ہوں۔طبیعت بے حد سادہ تھی۔نمائش سے گھبراتے تھے لیکن سادگی کے ساتھ طبیعت میں نفاست بہت زیادہ تھی۔گندگی سے نفرت تھی۔ہم سب کو یہی تلقین تھی کہ سادہ رہو۔لیکن صاف ستھرے رہو اور لباس سے خوش ذوقی کا اظہار ہو۔کھانا سادہ پسند کرتے تھے۔مگر اچھا پکا ہوا۔کھانا اکیلے بالکل نہیں کھا سکتے تھے۔کام کی وجہ سے خواہ کتنی بھی دیر ہو جائے جس بیوی کے گھر حضور کی باری ہوتی تھی وہ اور بچے آپ جب تک فارغ ہو کر آنہ جائیں۔حضور کا انتظار کرتے رہتے تھے۔اور ساتھ کھاتے تھے۔تربیت کی غرض سے خود فرمایا کرتے تھے کہ بچوں کو خود ساتھ بٹھایا کرو۔یہی تو وقت ہوتا ہے جس میں بچوں کی عادات اور اخلاق کا میں مطالعہ کرتا ہوں۔میری بچی امتہ المتین چھوٹی سی تھی ہم کھانا کھا رہے تھے آپ نے اسے مخاطب ہو کر فرمایا متین دیکھو تمہاری امی سے مجھے ہر قسم کی بات کرنی پڑتی ہے۔سلسلہ کے معاملات بھی ہوتے ہیں۔تم بھی موجود ہوتی ہو کبھی ایسا نہ کرنا کہ کوئی بات سنو تو آگے کر دو اس طرح کھانے کے موقعہ پر ہی عموماً بچوں کی تربیت کا موقع ملتا تھا۔اولاد سے باوجود انتہائی محبت کے اگر کوئی ایسی بات ملاحظہ فرماتے جس میں احمدیت کے لئے غیرت کا سوال ہوتا تو بے حد ناراض ہوتے۔ایک بچی کی شادی تھی۔خدا تعالیٰ کے فضل سے ہمارے گھر کے سب بچے بچیوں کی شادیاں بہت ہی سادگی سے ہو ئیں کبھی کوئی رسم وغیرہ نہیں ہوئی۔اس نے سہیلیوں سے سنا کہ سہرا بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔جو