خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 131 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 131

131 کیا ہے ان کا فرض ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ آپ ﷺ کے اعمال اور اخلاق کی نقل کریں اور اعمال و اخلاق کے یہی نقوش اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کے اندر پیدا کرنے کی کوشش کریں آج کا انسان در اصل مجبور ہوتا ہے اُن اخلاق سے جو نو یا دس سال کی عمر میں اُس کے بنا دیے جاتے ہیں وہ نو یا دس سال کی عمر تک ماں کی گود میں پلتا اور اسی سے اخلاق و عادات سیکھتا ہے۔پس تم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصویر اپنی اولاد کے دلوں پر کھینچو تا کہ جب وہ بڑے ہوں تو انہیں کسی نئی تصویر کی ضرورت محسوس نہ ہو۔بلکہ ان کے بڑے ہونے کے ساتھ ہی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ تصویر بھی نقش ہو جائے جو اُن کی ماؤں نے ان کے دلوں پر کھینچی تھی۔اس کے ساتھ ہی میں بڑوں سے بھی درخواست کرتا ہوں کہ جو کوتا ہی آپ لوگوں سے اب تک اس سلسلہ میں ہو چکی ہے اس کو دور کرو اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کا ایسا اعلیٰ درجہ کا نمونہ پیش کرو کہ دنیا والوں کو اس جہان میں اس کے سوا اور کوئی چیز نظر ہی نہ آئے۔جیسے ایک شاعر نے کہا ہے کہ جدھر دیکھتا ہوں ادھر تو ہی تو ہے“ " صلى الله اسی طرح ان اخلاق میں ترقی کرتے کرتے ایسی حالت ہو جائے کہ کچھ عرصہ کے بعد ہم جدھر بھی دیکھیں ہمیں سوائے محمد ﷺ کے اور کوئی نظر نہ آئے خواہ وہ چھوٹا محمد ﷺ ہو یا بڑا محمد۔اور یقینی بات ہے کہ جب اس دنیا میں ہمیں محمد ﷺ ہی محمد ﷺے نظر آنے لگیں گے تو چونکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کی صفات کی ایک تصویر ہیں۔اس لئے دنیا میں توحید کامل پیدا ہو جائے گی اور شرک باقی نہیں رہے گا کیونکہ جہاں خدا ہی خدا ہو وہاں شرک باقی نہیں رہ سکتا۔(انوار العلوم جلد 17 ص: 138تا 140) اللَّهُمَّ صَلَّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى الِ مُحَمَّدٍ وَبَارِكْ وَسَلِّمُ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ (الفضل سيرة النبي نمبر 1966 )