خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 132
132 سیرت حضرت مصلح موعود خلیفه لمسیح الثانی کی ایک جھلک حضرت خلیفہ اسیح الثانی کو ہم سے جدا ہوئے ایک سال ہو گیا۔لیکن آج بھی ان کی یاد دل کے تاروں کو ایسا جھنجوڑ کر رکھ دیتی ہے کہ بے اختیار دل چاہتا ہے کاش آپ کچھ عرصہ اور ہم میں رہتے لیکن جب اللہ تعالیٰ کا ارشاد كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ وَيَبْقَى وَجُهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ (الرحمن 28,27) یاد آجاتا ہے تو روح آستانہ الہی پرسجدہ ریز ہوتے ہوئے کہتی ہے۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ راجِعُونَ (البقره: 157) ہر بڑے انسان کی سیرت کچھ اعلیٰ اوصاف اور فضائل اپنے اندر رکھتی ہے۔لیکن دنیا میں بعض انسان ایسے بھی پیدا ہوئے ہیں جو قوموں کی تقدیریں بدلنے کے لئے آتے ہیں۔جن کو اللہ تعالیٰ دنیا میں نمونہ بنا کر بھجواتا ہے۔تا اس کی تقلید میں قوم میں بھی وہی اعلیٰ عادات اور فضائل پیدا ہوں۔حضرت فضل عمر بھی ایسے وجودوں میں سے ایک تھے۔جن کی زندگی کا ہر ہر لحہ بے نفسی کے ساتھ یاد خدا تعالیٰ اور خدا تعالیٰ کی مخلوق کی خدمت میں گزرا۔آپ کی زندگی کا ہر ہر واقعہ ایسا ہے جس پر مضامین لکھے جا سکتے ہیں۔اور سینکڑوں مضامین اس وقت تک لکھے بھی جاچکے ہیں۔لیکن ایک سال گزرنے پر بھی اب تک میرا خیال یہ ہے کہ جب آپ کی سیرت کے متعلق کچھ لکھنے لگتی ہوں تو آنکھیں دھندلی اور دماغ ماؤف ہونے لگتا ہے۔قلم لڑکھڑانے لگتا ہے۔اور ایک حد تک سوچنے کے بعد دل اور دماغ ساتھ چھوڑ دیتے ہیں۔بہر حال کوشش کروں گی کہ مدیرہ مصباح کے اصرار پر حضرت فضل عمر کی سیرت کی ایک جھلک قارئیں کے سامنے پیش کروں شاید میری یہ مساعی بہنوں کی اصلاح کا موجب ہو۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا ہی اس لئے کیا ہے تا وہ اس کا سچا عبد بنے لوگ عبادت کرتے ہیں نمازیں پڑھتے ہیں۔مگر ہرانسان کا نماز اور عبادت کا رنگ علیحدہ ہوتا ہے۔نماز وہ نہیں کہ دوسروں کے سامنے تو لیے سجدے کر لئے لیکن علیحدہ جلدی جلدی پڑھ لیں۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی جب نماز باجماعت پڑھاتے تھے تو عموماً جلدی ختم کروا دیتے تھے کہ پیچھے نماز پڑھنے والوں میں بوڑھے اور کمزور بھی شامل ہوتے ہیں۔بیماری کے باعث کبھی خود نماز کونہ جاسکتے تو نماز یا خطبہ دینے والے کو بھی حضور کا یہی ارشاد ہوا کرتا تھا کہ چھوٹا