خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 130 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 130

130 کی آمد کے ذکر سے احادیث کی کتب بھری پڑی ہیں وہ آچکا ہے اور اس کا نام مرزا غلام احمد ہے۔پس اللہ تعالیٰ کا خوف اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھنے والے انسان کے لئے بڑا ہی خوف کا مقام ہے کہ خدا کے وعدے اسلام کی حفاظت کے پورے ہو چکے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیاں پوری ہو گئیں۔آنے والا مہدی اور مسیح آچکا ہے۔اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے غلبہ اسلام کو مقرر کیا ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے۔وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا۔(ال عمران: 104) اللہ تعالیٰ کے مامور کے ہاتھ پر اکٹھا ہو جانے اور تفرقہ چھوڑ کر اتحاد اور وحدت اختیار کر لینے سے ہی اسلام کو فتح اور ترقی حاصل ہوسکتی ہے۔اور مسلمانوں کو پھر وہ بلند درجات حاصل ہو سکتے ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ اور صحابیات کو ملے بے شک قرآن مجید ہمارے لئے مکمل ضابطۂ حیات ہے۔لیکن کامل شریعت اور کامل تعلیم ہوتے ہوئے بھی مسلمان اسے بھول چکے تھے نہ پڑھتے تھے نہ اس پر عمل کرتے تھے۔اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اسی لئے مبعوث فرمایا کہ آپ قرآن مجید کے خزانے دنیا کو تقسیم کریں۔اور قرآن کے ذریعہ سے ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ پر عمل کریں جس پر چلنے میں ہمارے لئے راہ نجات ہے اور جس پر چل کر ہم وہی اخلاق فاضلہ اور فضائل حسنہ حاصل کر سکتے ہیں جو قرآن سکھاتا ہے۔مستورات سے خطاب:۔میں اپنے اس مضمون کو حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے ایک مضمون کے اقتباس سے ختم کرتی ہوں آپ فرماتے ہیں عورتوں کو چاہئے کہ وہ ہمیشہ اپنی اولادوں کے دلوں پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روحانی نقوش نقش کرتی رہیں۔عورتوں کو خصوصیت کے ساتھ میں اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ سب سے زیادہ احسان ان پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے کیونکہ دنیا کے پردہ پر عورتوں سے بڑھ کر کوئی مظلوم قوم نہ تھی۔وہ حقیر اور ذلیل سمجھی جاتی تھی اور ان کو کہیں بھی قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا تھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عورتوں پر بہت بڑا احسان ہے کہ آپ ﷺ نے ان کی قدرو منزلت قائم کی اور ان کے احساسات و جذبات کا خیال رکھنے کی مردوں کو ہدایت کی اس احسان کی یاد میں جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر