خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 124 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 124

124 علیہ وسلم نے بدلہ لیا۔مگر کیا شاندار بدلہ کہ اس حبشی غلام کے نام کا جھنڈا کھڑا کر دیا اور تمام سر درانِ مکہ کے سروں کو اس جھنڈے کے سامنے جھکا دیا کہ آج اس جھنڈے تلے جمع ہو کر معافی ملے گی۔جس کے سینہ پر کھڑے ہو کر تم کو وا کرتے تھے۔ساری تاریخ عالم کے صفحات الٹ ڈالیں۔تمام انبیاء کے حالات پڑھ جائیں۔ایسے عظیم الشان عفو کا نمونہ جب کہ آپ کو کامل اقتدار حاصل تھا۔کہیں نظر نہیں آئے گا۔اللهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ الله کامل نمونہ صرف رسول کریم ﷺ ہیں :۔اخلاق کے اظہار کے متعلق یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ کوئی شخص تمام بنی نوع انسان کے لئے کامل نمونہ کہلانے کا مستحق نہیں ہو سکتا جب تک یہ دو باتیں اس میں نہ پائی جاتی ہوں۔پہلی یہ کہ اس کی زندگی کے تمام حالات اس کی سیرت اس کے اخلاق اس کا عمل تفصیلی طور پر دنیا کے سامنے نہ ہو اور اس کی زندگی کا کوئی حصہ دنیا کی نظروں سے اوجھل نہ ہو۔دوسرے اس کی زندگی ایسے دوروں میں سے گزری ہو کہ وہ زندگی کے ہر پہلو کے لحاظ سے دین کے لئے نمونہ بننے کی حقدار ہو۔اگر کسی شخص نے غریبی کا مزہ نہیں چکھا تو وہ غرباء کے لئے کیسے نمونہ بن سکتا ہے اگر کسی شخص کو دولت نہیں ملی تو وہ امیروں کے لئے نمونہ نہیں بن سکتا ایک شخص نے جنگ میں حصہ نہیں لیا پھر کیسے جنگ کے متعلق وہ ہدایات دے سکتا ہے۔کسی کو حکومت نہیں ملی اس کی زندگی حاکموں کیلئے مثالی زندگی قرار نہیں دی جاسکتی۔وغیرہ یہ دونوں باتیں صرف اور صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود میں ہی اکمل اور اتم طور پر پائی جاتی ہیں۔تمام انبیاء میں سے صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود ہی ہے جن کی زندگی کا ہر فعل اور ہر واقعہ تاریخ میں محفوظ ہے۔اور دنیا کے سامنے بطور نمونہ پیش کیا جاسکتا ہے۔آپ ﷺ نے ہر قسم کا زمانہ پایا۔آرام کا بھی تکلیف کا بھی تلخیوں کے پیالے بھی پئے اور اقتدار وحکومت اور جاہ و حشمت بھی نصیب ہوئی نبوت سے پہلے آپ ﷺ کی زندگی اتنی پاک اور مطہر تھی کہ شدید سے شدید دشمن بھی آپ پر کوئی الزام نہ لگا سکا۔بچپن کا زمانہ نہایت شریفانہ اطوار سے گزارا۔یہاں تک کہ آپ گھر میں اپنا کھانا بھی مانگ کر نہ لیتے۔مزدوری بھی کی۔آپ ﷺ نے ایک دفعہ فرمایا میں اہل مکہ کی بکریاں چرایا کرتا تھا۔تجارت بھی کی جس میں آپ ﷺ کی دیانت داری۔وعدہ کی پابندی اور معاملہ کی صفائی کو دیکھ کر ہی حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے آپ ﷺ کو شادی کا پیغام دیا۔آپ ﷺ کے اردگرد کا ماحول بت پرستی ،شراب نوشی