خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 123 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 123

123 عظیم الشان کامیابی نصیب ہوئی اس کی مثال کسی مذہب کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ایک وقت وہ تھا کہ آپ مکہ کی گلیوں میں تنہا پھر تے تھے اور پھر وہ وقت بھی آیا جب آپ نے اپنی آنکھوں سے اللہ تعالیٰ کا وعدہ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا (سورۃ النصر : 3,2) پورا ہوتے دیکھ لیا۔صفت مالکیت کا اظہار :۔پھر آپ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی صفت مالکیت کا اظہار بھی عظیم الشان طور پر ہوا۔اللہ تعالیٰ نے آپ کے ہاتھ پر مکہ کو فتح کیا۔دس ہزار قدوسیوں کے لشکر کے ساتھ آپ مکہ میں فاتح کی حیثیت سے داخل ہوئے۔وہی لوگ جو مسلمانوں کو تکلیفیں دیتے تھے اور ان پر ظلم کرتے تھے کانپ رہے تھے کہ خدا جانے کیا سلوک ان سے کیا جائے گا۔وہ اپنے دلوں میں محسوس کر رہے تھے کہ ہم نے مسلمانوں کو تکلیف دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی بائیکاٹ کیا وطن سے نکلنے پر مجبور کیا۔جور و ظلم کئے مارا۔پھر صرف عام مسلمانوں کو ہی نہیں بلکہ ان کے آقا سردار تک کو تکلیفیں دینے سے باز نہیں آئے آج ان کی فتح کا دن ہے اب دیکھیں کیا سلوک ہم سے ہوتا ہے ان کے دل لرزاں و ترساں تھے مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو اللہ تعالیٰ کی صفت مالکیت کے بھی کامل مظہر تھے آپ کو ہر طرح کا اختیار اور اقتدار حاصل تھا کہ ان سے ان کے مظالم کا بدلہ لیں۔آپ نے بدلہ لیا۔کس طرح؟ کیا ان کو قید کر کے؟ کیا سزائیں دے کر ؟ کیا قتل کر کے؟ کیا جلا وطن کر کے؟ نہیں بلکہ آپ نے ساری قوم کو مخاطب کر کے فرمایا لَا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ يوسف : 93) جاؤ میں نے تم سب کو معاف کیا تم پر کوئی گرفت نہیں تم سے کوئی مواخذہ نہیں کیا جائے گا۔وہ سب ظلم جو تم نے مسلمانوں پر کئے وہ سب میں نے بھلا دیئے پھر آپ نے ابوردیمہ کے ہاتھ میں ایک جھنڈا دیا اور فرمایا یہ بلال کا جھنڈا ہے جو اس کے نیچے جمع ہو جائے گا وہ امن میں ہوگا جو اپنے گھر کے دروازے بند کر کے بیٹھ رہے گا وہ امن میں ہوگا۔بلال ایک حبشی غلام تھے وہ ابتدائے اسلام میں ایمان لائے اور اسلام کی وجہ سے ان پر انتہا سے زیادہ مظالم ڈھائے گئے باقی جو لوگ تھے وہ قریش مکہ کے رشتہ دار تھے جب عام معافی کا اعلان ہوا تو ہوسکتا تھا کہ بلال کے دل میں خیال آتا کہ بے شک معافی دے دی مگر آخر بھائی بند ہم قبیلہ اور ہم ملک تھے جو مجھ پر ظلم ڈھائے گئے آج ضرورت ہے کہ ان کا بدلہ لیا جائے۔رسول کریم صلی اللہ