خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 125
125 الله قمار بازی اور طرح طرح کی بدکاریوں سے پر تھا۔مگر آپ ﷺ کی زندگی اس ماحول میں بھی ہر قسم کے عیب سے پاک تھی۔یہاں تک کہ خود اپنی قوم سے آپ ﷺ نے صادق اور امین کا خطاب پایا تھا۔25 سال تک شادی سے قبل کی زندگی انتہائی طور پر پاکیزہ گزاری۔پھر شادی کی تو ایک چالیس سالہ بیوہ سے اہل وعیال کے ساتھ سلوک میں آپ ﷺ نے بے نظیر نمونہ قائم فرمایا۔دعویٰ نبوت کے بعد آپ کی شدید ترین مخالفت ہوئی تیرہ سال کا لمبا عرصہ مخالفتوں ظلموں اور دکھوں کا آپ ﷺ نے گزارا اور دنیا کے سامنے اپنے صبر اور استقامت کا ایک ایسا نمونہ قائم کیا جس کی مثال نہیں مل سکتی۔اللہ تعالیٰ کے حکم سے جب آپ ﷺ نے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی تو دشمن نے آپ کی مخالفت کی آگ تمام عرب میں لگا دی اور خدا تعالیٰ کے اذن سے آپ ﷺ کو اسلام کی حفاظت کے لئے تلوار اٹھانی پڑی آپ ﷺ نے با وجود قلیل تعداد سامانوں اور ذرائع کی قلت کے ہر جنگ میں دشمنوں کو شکست دی۔اور چند سال کے عرصہ میں ہی فاتح ہو کر امن قائم کر دیا۔جنگ اور صلح کے لئے ایسے قانون اور ہدایات جاری فرما ئیں جو آج بھی مہذب اور تعلیم یافتہ قوموں کے لئے قابل تقلید نمونہ ہیں۔آج بڑی بڑی مغربی اقوام اپنے معاہدہ کی پابندی سے منکر ہورہی ہیں۔یو۔این۔او۔میں مسلمانوں سے وعدے کئے جاتے ہیں۔ایسے وعدے جو صرف کاغذ کی زینت ہی بن کر رہ جاتے ہیں اور وعدہ فردا پر ملتے چلے جاتے ہیں لیکن ہزاروں سلام اور درود اس محبوب اور محسن انسانیت پر جو دنیا میں درس اخلاق دینے آیا تھا اس نے اپنے عمل سے بتایا کہ خدا کے نبی وعدہ اور عہد کر کے اس سے پھر انہیں کرتے صلح حدیبیہ کے وقت قریش مکہ اور مسلمانوں میں یہ معاہدہ ہوا کہ مسلمانوں میں سے جو اسلام سے مرتد ہو گا اسے مسلمان واپس بھیج دیں گے اپنے پاس نہ رکھیں گے لیکن قریش میں سے جو اسلام لائے گا اسے مدینہ نہ جانے دیا جائے گا۔ابھی معاہدہ ہوا ہی تھا کہ دنیا کے سامنے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد کی پابندی کا امتحان بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہو گیا۔سہیل جو مکہ والوں کی طرف سے معاہدہ کر رہا تھا۔اس کا بیٹا ابوجندل بیڑیوں میں جکڑا ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں آگرا کہ یا رسول اللہ مجھے ساتھ لے چلئے یہ لوگ اسلام کی وجہ سے مجھ پر ظلم کرتے ہیں اس کی حالت دیکھ کر مسلمانوں کی آنکھوں میں خون اتر آیا۔تلواروں کے دستوں پر ان کے ہاتھ مضبوط ہو گئے۔مگر کیا شان تھی اس کامل انسان علی کی جس کی زندگی کا ہر واقعہ دنیا کے لئے نمونہ ہے فرمایا ابو جندل صبر کرو! خدا کے نبی وعدہ کر کے توڑا نہیں کرتے۔اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَبَارِكْ وَسَلِّمُ فتح مکہ کے بعد آپ ﷺ کی حیثیت ایک