خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 103 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 103

103۔مثلاً قد ہے، موٹا پا یا دبلا پن ہے۔برقعہ پہنے اور صحیح طور پر پردہ کرنے کے باوجود قد چھپایا نہیں جاسکتا۔دیکھنے والے کو یہ ضرور پتہ لگ جائے کہ عورت لمبی ہے یا چھوٹے قد کی۔اس طرح یہ بھی برقعہ کے با وجود ظاہر ہو جائے گا کہ عورت کا جسم موٹا ہے یاد بلا۔کتنا ہی کھلا برقعہ پہنود بلا پن یا موٹا پا ظاہر ہو جاتا ہے۔لیکن اس کا مطلب وہ ہر گز نہیں جو آج کل ہو رہا ہے اتنے تنگ برقعے سلوائے جارہے ہیں کہ گردن سے پنڈلیوں تک کے جسم کا ہر سائزہ نمایاں ہو جاتا ہے برقعہ تو پہنا جاتا ہے لباس اور جسم چھپانے کے لئے زینت کو مخفی رکھنے کے لئے اگر برقعہ بھی تنگ ہو جائے کہ اس میں جسم کا ہر عضو نظر آ جائے۔تو برقعہ کا مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے۔نقاب اتنی چھوٹی بنائی جاتی ہے کہ سینہ، کمر ، چوٹی سب نظر آ رہی ہوتی ہے۔اسی طرح نقاب یا برقعہ کو ایسا لکش فیتے جھالریں وغیرہ لگا کر بنایا جاتا ہے کہ خواہ مخواہ ایک مرد کی نظر اس برقعہ کی دلکشی پر ٹھہرتی ہے۔بہر حال ان باتوں سے گریز کرنا چاہئے اور برقعہ کو پردہ کی خاطر پہنا چاہئے نہ کہ کسی اور مقصد کے لئے۔اس آیت سے یہ بھی ظاہر ہے کہ زینت کا اظہار عورت صرف مندرجہ ذیل کے سامنے کر سکتی ہے یعنی ان کے سامنے بغیر پردے کے اچھے کپڑے زیور وغیرہ پہن کر آسکتی ہے۔خاوند ، باپ، خسر ، بیٹے ، خاوندوں کے بیٹے ، بھائی ، بھتیجے، بھانجے ، شریف عورتیں ، گھر کے پلے ہوئے نوکر ، وہ چھوٹے لڑکے جو بطور نوکر کے رکھے ہوں۔ابھی جوان نہ ہوئے ہوں یا چھوٹی عمر کے بچے۔اس فہرست میں کہیں یونیورسٹی کے پروفیسروں، طلباء، دکانداروں ، بیروں ، ڈرائیوروں کا ذکر نہیں، نوکروں سے بھی پردہ ہے وہ نوکر جو شروع سے گھر میں پلا ہو اسی گھر میں جوان ہوا ہو۔اس کے سامنے ہوا جا سکتا ہے مگر آج کل کیا حال ہے۔ایک باورچی آیا دو ماہ رہ کر چلا گیا نیا آ گیا۔ایک بیرہ آیا پندرہ دن بعد استعفیٰ دے دیا۔ایک ڈرائیور آیا تھوڑا عرصہ نوکری کی استعفیٰ دے دیا۔آج ایک سے پردہ ٹوٹا ہے۔کل دوسرے نوکر سے پرسوں تیسرے سے، حد بندی کوئی نہیں رہی نہ ہی حجاب باقی رہ جاتا ہے۔نوکر لڑکوں میں سے بھی ان کے سامنے آنے کی اجازت ہے۔جو ابھی چھوٹے ہوں اور جوان نہیں ہوئے۔وہ خواتین یا لڑکیاں جو ایسی حرکات کی مرتکب ہو رہی ہیں۔اپنے گریبانوں میں منہ ڈال کر ٹھنڈے دل سے غور کریں۔تو وہ ضرور اس نتیجہ پر پہنچیں گی کہ ان کے افعال نہ صرف شریعت کی خلاف ورزی کر رہے ہیں بلکہ اپنی سوسائٹی اور احمدیت کے لئے ننگ کا باعث ہے۔اس لئے ضروری ہے کہ معاشرہ کی اصلاح کی طرف توجہ کی جائے۔اور خواتین اور بچیوں کو صحیح اسلامی مسائل سے آگاہ کیا جائے۔تا کہ وہ غلط نہی میں مبتلا رہ کر کہ ہم تو