خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 104 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 104

104 پردہ کر رہی ہیں۔پردہ میں بے پردگی کا باعث نہ بنیں۔جماعت کی ذمہ دار ہستیوں، لجنات کی عہدیداروں اور بچیوں کے ماں باپ اور عورتوں کے خاوندوں کو اس امر کی نگرانی کرتے رہنا چاہئے کہ پردہ حقیقی رنگ میں کیا جا رہا ہے یا نہیں۔آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُول عن رعيه ( صحیح بخاری کتاب الجمعہ ) تم میں سے ہر شخص ایک گڈریے کی حیثیت رکھتا ہے جس سے اس کے گلے کے متعلق سوال قیامت کے دن کیا جائے گا۔ہرلڑکی کی ماں اور باپ، ہر عورت کا خاوند ، ہر بہن کا بھائی ، ہر لجنہ کی صدر جواب دہ ہوگی خدا تعالیٰ کے حضور که اسلامی شریعت کی خلاف ورزی کرنے والی عورتوں اور بچیوں کے لئے تم نے کیا کیا۔مجھے تو کبھی سمجھ میں نہیں آئی کہ ماں باپ کی اگر صحیح نگرانی ہو تو بیٹی پردہ کیسے چھوڑ سکتی ہے یا پردہ سے بے پرواہی کس طرح اختیار کر سکتی ہے۔یا ایسالباس یا برقعہ کس طرح پہن سکتی ہے۔جو ہماری تہذیب، تمدن اور شریعت کے منافی ہو۔قریب سارا دن ایک لڑکی اپنے ماں باپ کے سامنے رہتی ہے۔ان سے چوری کچھ نہیں کرتی۔جو کام کرتی ہے ان کی مرضی سے کرتی ہے۔اس لئے بچی سے زیادہ ماں باپ قصور وار ہیں کیونکہ وہ ذمہ دار ہیں اپنی بچیوں کی تربیت کے۔اور اگر کوئی شادی شدہ عورت صحیح رنگ میں پردہ نہیں کرتی تو اس کا خاوند ذمہ دار ہیں۔اگر لڑکیوں کو احساس ہو۔اگر ہم نے کوئی فعل قرآن مجید کی تعلیم اور آنحضرت ﷺ کے ارشادات کے خلاف کیا تو ہمارے ماں باپ اتنی غیرت رکھتے ہیں کہ ہمیں سخت سزا دیں گے تو وہ کبھی بھی فعل خلاف شریعت کرنے کی جرات ہی نہیں کر سکتیں۔پھر صرف یہی جذبہ نہ ہو کہ ماں باپ کے ڈر سے ایک کام نہ کیا۔بلکہ ماں باپ کا فرض ہے کہ بچیوں کے دلوں میں بچپن سے اللہ تعالیٰ کی محبت ، آنحضرت ﷺ کی محبت اور آپ کے لئے غیرت، حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے خلفاء کی اطاعت کا جذبہ پیدا کریں۔قرآن سے ان کو عشق ہو۔اس کو پڑھیں، سمجھیں اور اس پر عمل کریں۔جب کسی کام کو کرتے ہوئے ان کے علم میں آئے کہ یہ قرآن کی تعلیم کے خلاف ہے۔اس بات کو آنحضرت ﷺ نے نا پسند فرمایا ہے تو ایک سچی مسلمان لڑکی یا عورت سے ممکن ہی کیسے ہے کہ وہ یہ کام کرنے کی جرات بھی کرے۔جان بوجھ کر انسان زہر کبھی نہیں کھاتا۔جان بوجھ کر انسان سانپ کے بل میں ہاتھ نہیں ڈالتا۔پس ضرورت ہے کہ اپنی بچیوں کو دین کا علم اچھی طرح سکھایا جائے۔شریعت کے مسائل سے آگاہ کیا جائے اور یہ کام اگر ایک طرف ماں