خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 82 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 82

82 اسی طرح اللہ تعالیٰ کے تعلق اور عشق میں آپ فرماتے ہیں:۔ابتلاء کے وقت ہمیں اندیشہ اپنی جماعت کے بعض ضعیف دلوں کا ہوتا ہے میرا تو یہ حال ہے کہ اگر مجھے صاف آواز آوے کہ تو مخذول ہے اور تیری کوئی مراد ہم پوری نہ کریں گے تو مجھے خدا تعالیٰ کی قسم ہے کہ اُس عشق اور محبت الہی اور خدمت دین میں کوئی کمی واقع نہ ہوگی اس لئے کہ میں تو اُسے دیکھ چکا ہوں۔“ ملفوظات جلد اول ص 302 اللہ تعالیٰ سے خوف کے متعلق فرماتے ہیں:۔رات کے وقت جب ہر طرف خاموشی ہوتی ہے اور ہم اکیلے ہوتے ہیں اس وقت بھی خدا کی یاد میں 66 دل ڈرتا رہتا ہے کہ وہ بے نیاز ہے۔ملفوظات جلد اول ص 306 اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کی راہ میں سختیاں برداشت کرنے کے متعلق فرماتے ہیں:۔میں کہتا ہوں کہ اگر مجھے اس امر کا یقین دلا دیا جاوے کہ خدا تعالیٰ سے محبت کرنے اور اس کی اطاعت میں سخت سے سخت سزادی جائے گی تو میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میری فطرت ایسی واقع ہوئی ہے کہ وہ ان تکلیفوں اور بلاؤں کو ایک لذت اور محبت کے جوش اور شوق کے ساتھ برداشت کرنے کو تیار ہے اور باوجود ایسے یقین کے جو عذاب اور دُکھ کی صورت میں دلایا جاوے کبھی خدا کی اطاعت اور فرمانبرداری سے ایک قدم باہر نکلنے کو ہزار بلکہ لا انتہاء موت سے بڑھ کر اور دکھوں اور مصائب کا مجموعہ قرار دیتی ہے۔جیسے اگر کوئی بادشاہ عام اعلان کرائے کہ اگر کوئی ماں اپنے بچے کو دودھ نہ دے گی تو بادشاہ اس سے خوش ہوکر انعام دے گا تو ایک ماں کبھی گوارا نہیں کر سکتی کہ وہ اس انعام کی خواہش اور لالچ میں اپنے بچے کو ہلاک کرے۔اسی طرح ایک سچا مسلمان خدا کے حکم سے باہر ہونا اپنے لئے ہلاکت کا موجب سمجھتا ہے خواہ اس کو اس نافرمانی میں کتنی ہی آسائش اور آرام کا وعدہ دیا جاوے۔ملفوظات جلد دوم ص: 134 اللہ تعالیٰ پر آپ کو کس قدر تو کل تھا اور اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر کتنا یقین تھا آپ کے مندرجہ ذیل کلمات سے واضح ہے آپ فرماتے ہیں:۔یقین یا درکھو کہ خدا اپنے بندہ کو کبھی ضائع نہیں کرے گا اور ہر گز نہیں اُٹھائے گا جب تک اس کے ہاتھ " سے وہ باتیں پوری نہ ہو جائیں جن کے لئے وہ آیا ہے اسے کسی کی خصومت اور کسی کی بددعا کوئی ضرر نہیں پہنچا سکتی۔“ ملفوظات جلد اول ص 200 ایک دن مجلس مسیح موعود علیہ السلام میں تو کل کی بات چل پڑی جس پر آپ نے فرمایا:۔