خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 81
81 اور اصطفاء ہو اور کچھ نہ کچھ اس میں ضرور خصوصیت چاہئے کہ خدا تعالیٰ کل مخلوق میں سے اسے برگزیدہ کرے۔ملفوظات جلد سوم صفحہ 547,546 تعلق باللہ:۔کسی انسان کے اخلاق فاضلہ اور سیرت پر نظر ڈالتے ہوئے سب سے پہلے اس کا جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق ہے وہی ذہن میں آتا ہے۔جب ہم آنحضرت ﷺ کے حالات زندگی پڑھتے ہیں تو آپ کی ساری کی ساری زندگی اِنَّ صَلَوتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ (الانعام: 163) کے گرد گھومتی نظر آتی ہے۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی کا سب سے بڑا پہلو آپ کا اللہ تعالیٰ سے تعلق اور اللہ تعالیٰ کی ذات پر کامل تو کل ہے۔اللہ تعالیٰ سے آپ کے تعلق میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے سینکڑوں الہامات اور نشانات جو آپ کے لئے ظہور میں آئے پیش کئے جاسکتے ہیں۔لیکن جیسا کہ پہلے بھی تحریر کر چکی ہوں اس مضمون میں صرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اقوال جوان امور پر روشنی ڈالتے ہیں پیش کر رہی ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے تعلق باللہ اور توکل علی اللہ پر آپ کے ہی الفاظ میں ایک واقعہ گہری روشنی ڈالتا ہے۔حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کا بیان ہے 10 جولائی 1899 سے قبل مجھے خوب یاد ہے کہ جس روز ڈسٹرکٹ سپرنٹنڈنٹ صاحب قادیان میں حضرت کے مکان کی تلاشی کے لئے آئے تھے اور قبل از وقت اس کا کوئی پتہ اور خب نہ تھی اور نہ ہوسکتی تھی۔اس کی صبح کو کہیں سے ہمارے میر صاحب نے سن لیا کہ آج وارنٹ ہتھکڑی سمیت آویگا۔میر صاحب حواس باختہ سر از پا نشناختہ حضرت کو اس کی خبر کرنے اندر دوڑے گئے اور غلبہ رقت کی وجہ سے بعد مشکل اس ناگوار خبر کے منہ سے برقع اتارا حضرت اس وقت نور القرآن لکھ رہے تھے اور بڑا ہی لطیف اور نازک مضمون در پیش تھا سر اٹھا کر اور مسکرا کر فرمایا کہ میر صاحب !لوگ دنیا کی خوشیوں میں چاندی سونے کے کنگن پہنا ہی کرتے ہیں ہم سمجھ لیں گے کہ ہم نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں لوہے کے کنگن پہن لئے “ پھر ذرا تامل کے بعد فرمایا۔مگر ایسانہ ہوگا کیونکہ خدا تعالیٰ کی اپنی گورنمنٹ کے مصالح ہوتے ہیں وہ اپنے خلفائے مامورین کی ایسی رسوائی پسند نہیں کرتا" از خط حضرت مولوی عبد الکریم صاحب ملفوظات جلد اول صفحہ 202