خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 83 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 83

83 میں اپنے قلب کی عجیب کیفیت پاتا ہوں جیسے سخت جبس ہوتا اور گرمی کمال شدت کو پہنچ جاتی ہے تو لوگ وثوق سے امید کرتے ہیں کہ اب بارش ہوگی۔ایسا ہی جب میں اپنی صندوقچی کو خالی دیکھتا ہوں تو مجھے خدا کے فضل پر یقین واثق ہوتا ہے کہ اب یہ بھرے گی اور ایسا ہی ہوتا ہے۔“ اور خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر فرمایا کہ:۔” جب میرا کیسہ خالی ہوتا ہے تو جو ذوق وسرور اللہ تعالیٰ پر توکل کا اس وقت مجھے حاصل ہوتا ہے میں اُس کی کیفیت بیان نہیں کر سکتا۔اور وہ حالت بہت ہی زیادہ راحت بخش اور طمانیت انگیز ہوتی ہے بہ نسبت اس کے کیسہ بھرا ہوا ہو۔ملفوظات جلد اول صفحہ 216 اور فرمایا:۔اُن دنوں میں جب کہ دنیوی مقدمات کی وجہ سے والد صاحب اور بھائی صاحب طرح طرح کے ہموم و عموم میں مبتلا رہتے تھے وہ بسا اوقات میری حالت دیکھ کر رشک کھاتے اور فرمایا کرتے تھے کہ یہ بڑا ہی خوش نصیب آدمی ہے اس کے نزدیک کوئی غم نہیں آتا۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 216-217 اللہ تعالیٰ پر توکل کا آپ کے ان جملوں سے کیا عظیم الشان اظہار ہوتا ہے:۔مگر میں نے اپنے پر زور نشانوں سے دکھایا ہے اور صاف صاف دکھایا ہے کہ زندہ برکات اور زندہ نشانات صرف اسلام کے لئے ہیں میں نے بے شمار اشتہار دیئے ہیں اور ایک مرتبہ سولہ ہزار اشتہار شائع کئے اب ان لوگوں کے ہاتھ میں بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ جھوٹے مقدمات کئے اور قتل کے الزام دیئے اور اپنی طرف سے ہمارے ذلیل کرنے کے منصوبے گانٹھے مگر عزیز خدا کا بندہ ذلیل کیونکر ہوسکتا ہے جس میں ان لوگوں نے ہماری ذلت چاہی اسی ذلت سے ہمارے لئے عزت نکلی۔ڈالِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُوتِيهِ مَنْ يَشَآءُ ( الجمعہ: 5)۔دیکھو اگر کلارک کا مقدمہ نہ ہوتا تو ابراء کا الہام کیونکر پورا ہوتا۔“ ملفوظات جلد اوّل صفحہ 333 اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسہ:۔اللہ تعالیٰ پر آپ کو اتنا بھروسہ تھا کہ آپ کو یقین تھا کہ بغیر مدعا عرض کئے اللہ تعالیٰ آپ کی خواہشات کو پورا فرمائے گا۔آپ فرماتے ہیں:۔ہم کو تو خدا پر اتنا بھروسہ ہے کہ ہم تو اپنے لئے دعا بھی نہیں کرتے کیونکہ وہ ہمارے حال کو خوب جانتا