خطاب برموقعہ جلسہ سالانہ برطانیہ یکم اگست 2010ء

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 21 of 56

خطاب برموقعہ جلسہ سالانہ برطانیہ یکم اگست 2010ء — Page 21

اختتامی خطاب جلسہ سالانہ یو۔کے ۲۰۱۰ء بھی لکھ رہے ہیں ، کالموں میں بھی لکھ رہے ہیں اور میٹنگوں میں بھی کہا جاتا ہے کہ ہمیں اگر ایک ہونا ہے، اسلام کی ترقی ہونی ہے تو ہمیں خلافت کی ضرورت ہے۔ایک مصلح کی ضرورت ہے لیکن جو مصلح اللہ تعالی نے مبعوث فرمایا ہے اس کو ماننے کے لیے تیار نہیں۔فرمایا : ” اور اس طرح پر بدی اور گناہ سے چھڑا کر نیکی اور راستی کی طرف رجوع دیوے۔سو عین ضرورت کے وقت میں میرا آنا ایسا ظاہر ہے کہ میں خیال نہیں کر سکتا کہ بجر سخت متعصب کے کوئی اس سے انکار کر سکے۔اور دوسری شرط یعنی یہ دیکھنا کہ نبیوں کے مقرر کردہ وقت پر آیا ہے یا نہیں۔یہ شرط بھی میرے آنے پر پوری ہوگئی ہے۔کیونکہ نبیوں نے یہ پیشگوئی کی تھی کہ جب چھٹا ہزار ختم ہونے کو ہو گا تب وہ مسیح موعود ظاہر ہو گا۔جو قمری حساب کے رُو سے چھٹا ہزار جو حضرت آدم کے ظہور کے وقت سے لیا جاتا ہے مدت ہوئی جو ختم ہو چکا ہے اور شمسی حساب کے رو سے چھٹا ہزارختم ہونے کو ہے۔ماسوا اس کے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ ہر ایک صدی کے سر پر ایک مجدد آئے گا جو دین کو تازہ کرے گا اور اب اس چودھویں صدی میں سے اکیس سال گزر ہی چکے ہیں اور بائیسواں گزر رہا ہے۔اب کیا یہ اس بات کا نشان نہیں کہ وہ مسجد دآ گیا۔۲۱