خطاب برموقعہ جلسہ سالانہ برطانیہ یکم اگست 2010ء

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 22 of 56

خطاب برموقعہ جلسہ سالانہ برطانیہ یکم اگست 2010ء — Page 22

اختتامی خطاب جلسہ سالانہ یو۔کے ۲۰۱۰ء تیسری شرط یتھی کہ کیا خدا نے اس کی تائید بھی کی ہے یا نہیں۔سواس شرط کا مجھ میں پایا جانا بھی ظاہر ہے۔کیونکہ اس ملک کی ہر ایک قوم کے بعض دشمنوں نے مجھے نابود کرنا چاہا اور ناخنوں تک زور لگایا اور بہت کوششیں کیں لیکن وہ اپنی تمام کوششوں میں نامرادر ہے۔کسی قوم کو یہ فخر نصیب نہ ہوا کہ وہ کہہ سکے کہ ہم میں سے کسی شخص نے اس شخص کے تباہ کرنے کے لیے کسی قسم کی کوششیں نہیں کیں اور ان کی کوششوں کے برخلاف خدا نے مجھے عزت دی اور ہزار ہا لوگوں کو میرے تابع کر دیا۔پس اگر یہ خدا کی تائید نہیں تھی تو اور کیا تھا۔کس کو معلوم نہیں کہ سب قوموں نے اپنے اپنے طور پر زور لگائے کہ تا مجھے نابود کر دیں مگر میں ان کی کوششوں سے نابود نہ ہو سکا۔بلکہ میں دن بدن بڑھتا وو اور آج آپ لوگوں کی حاضری اس بات کی گواہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام یقینا خدا کے فرستادہ اور اس کے بھیجے ہوئے ہیں۔آپ فرماتے ہیں: " پس اگر خدا کا ایک پوشیدہ ہاتھ میرے۔ساتھ نہ ہوتا اور اگر میرا کاروبار محض انسانی منصوبہ ہوتا تو ان مختلف تیروں میں سے کسی تیر کا میں ضرور نشانہ بن جاتا اور کبھی کا تباہ ہوا ہوتا۔اور آج میری قبر کا بھی نشان نہ ہوتا۔کیونکہ جو خدا پر جھوٹ باندھتا ہے اُس کے مارنے کے لیے کئی ۲۲