خطاب برموقعہ جلسہ سالانہ برطانیہ یکم اگست 2010ء

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 20 of 56

خطاب برموقعہ جلسہ سالانہ برطانیہ یکم اگست 2010ء — Page 20

اختتامی خطاب جلسہ سالانہ یو۔کے ۲۰۱۰ء موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جماعت کے ساتھ تشریف لائے تو ایک وہابی مولوی آپ پر اعتراض کرنے لگا۔آپ مسکراتے رہے۔پھر آواز آئی کہ اس مولوی کو دور کر دیا جائے گا۔اس کے بعد وہ مولوی غائب ہو گیا۔اس کشف کے بعد میرے تمام شکوک و شبہات دور ہو گئے اور بیعت کی تو فیق ملی۔الحمد للہ حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ : کسی شخص کے دعوی نبوت پر سب سے پہلے زمانہ کی ضرورت دیکھی جاتی ہے۔پھر یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ وہ نبیوں کے مقرر کردہ وقت پر آیا ہے یا نہیں۔پھر یہ بھی سوچا جاتا ہے کہ خدا نے اس کی تائید کی ہے یا نہیں۔پھر یہ بھی دیکھنا ہوتا ہے کہ دشمنوں نے جو اعتراض اٹھائے ہیں ان اعتراضات کا پورا پورا جواب دیا گیا ہے یا نہیں۔جب یہ تمام باتیں پوری ہو جائیں تو مان لیا جائے گا کہ وہ انسان سچا ہے ورنہ نہیں۔اب صاف ظاہر ہے کہ زمانہ اپنی زبان حال سے فریاد کر رہا ہے کہ اس وقت اسلامی تفرقہ کے دور کرنے کے لیے اور بیرونی حملوں سے اسلام کو بچانے کے لیے اور دنیا میں گمشدہ روحانیت کو دوبارہ قائم کرنے کے لیے بلا شبہ ایک آسمانی مصلح کی ضرورت ہے جو دوبارہ یقین بخش کر ایمان کی جڑھوں کو پانی دیوے 66 اور یہ بات آج کل کے مسلمان بھی تسلیم کر رہے ہیں۔اخباروں میں