خطاب برموقعہ جلسہ سالانہ برطانیہ یکم اگست 2010ء

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 25 of 56

خطاب برموقعہ جلسہ سالانہ برطانیہ یکم اگست 2010ء — Page 25

اختتامی خطاب جلسہ سالانہ یو۔کے ۲۰۱۰ء غلط ٹھہرتی ہے اور یا یہ ماننا پڑتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام قیامت کے دن خدا تعالیٰ کے سامنے جھوٹ بولیں گے اور اس بات کو چھپائیں گے کہ وہ دوبارہ دنیا میں آئے تھے اور چالیس برس تک رہے تھے اور مہدی کے ساتھ مل کر عیسائیوں سے لڑائیاں کی تھیں۔پس اگر کوئی قرآن شریف پر ایمان لانے والا ہو تو فقط اس ایک ہی آیت سے تمام وہ منصوبہ باطل ثابت ہوتا ہے جس میں یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ مہدی خونی پیدا ہو گا اور عیسی اس کی مدد کے لیے آسمان سے آئے گا۔بلاشبہ وہ شخص قرآن شریف کو چھوڑتا ہے جو ایسا اعتقاد رکھتا ہے۔پھر جب ہمارے مخالف ہر ایک بات میں مغلوب ہو جاتے ہیں تو آخر کار یہ کہتے ہیں کہ بعض پیشگوئیاں پوری نہیں ہوئیں جیسے کہ آتھم کی پیشگوئی۔میں کہتا ہوں کہ اب آتھم کہاں ہے؟ اس پیٹ کوئی کا تو ماحصل یہ تھا کہ جو شخص جھوٹا ہے وہ بچے کی زندگی میں ہی وفات پا جائے گا۔سو آتھم وفات پا گیا اور میں اب تک زندہ ہوں“۔(لیکچر لاہور۔روحانی خزائن۔جلد نمبر 20 صفحہ نمبر 194 تا 197) نشان کے بارہ میں فرمایا : کہ ”نشان خدا تعالیٰ کا یہ قول ہے کہ وَلَوَ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِيْلِ لَأَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِيْنِ هِ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ (الحاقة :45-47)۔یعنی اگر یہ نبی ہمارے پر افترا کر تا تو ہم اس کو دہنے ہاتھ سے پکڑ لیتے۔پھر اس کی وہ رگ کاٹ دیتے جو جان کی رگ ہے۔یہ ۲۵