خطاب برموقعہ جلسہ سالانہ برطانیہ یکم اگست 2010ء

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 24 of 56

خطاب برموقعہ جلسہ سالانہ برطانیہ یکم اگست 2010ء — Page 24

اختتامی خطاب جلسہ سالانہ یو۔کے ۲۰۱۰ء قیامت کو حضرت عیسی سے پوچھے گا کہ کیا تو نے ہی یہ تعلیم دی تھی کہ مجھے اور میری ماں کو خدا کر کے ماننا اور ہماری پرستش کرنا۔اور وہ جواب دیں گے کہ اے میرے خدا! اگر میں نے ایسا کہا ہے تو تجھے معلوم ہوگا کیونکہ تو عالم الغیب ہے۔میں نے تو وہی باتیں ان کو کہیں جو تو نے مجھے فرما ئیں۔یعنی یہ کہ خدا کو وحدہ لاشریک اور مجھے اس کا رسول مانو۔میں اُس وقت تک اُن کے حالات کا علم رکھتا تھا جب تک کہ میں اُن میں تھا۔پھر جب تو نے مجھے وفات دے دی تو تو ان پر گواہ تھا۔مجھے کیا خبر ہے کہ میرے بعد انہوں نے کیا کیا۔اب ان آیات سے ظاہر ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام یہ جواب دیں گے کہ جب تک میں زندہ تھا عیسائی لوگ بگڑے نہیں تھے اور جب میں مر گیا تو مجھے خبر نہیں کہ ان کا کیا حال ہوا۔پس اگر مان لیا جائے کہ حضرت عیسی علیہ السلام اب تک زندہ ہیں تو ساتھ ہی ماننا پڑے گا کہ عیسائی بھی اب تک بگڑے نہیں اور بچے مذہب پر قائم ہیں۔پھر ماسوا اس کے اس آیت میں حضرت عیسی علیہ السلام اپنی وفات کے بعد اپنی بے خبری ظاہر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اے میرے خدا! جب تو نے مجھے وفات دے دی اس وقت سے مجھے اپنی امت کا کچھ حال معلوم نہیں۔پس اگر یہ بات صحیح مانی جائے کہ وہ قیامت سے پہلے دنیا میں آئیں گے اور مہدی کے ساتھ مل کر کافروں سے لڑائیاں کریں گے تو نعوذ باللہ قرآن شریف کی یہ آیت ۲۴