خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 74 of 376

خلیج کا بحران — Page 74

۷۴ ۹ نومبر ۱۹۹۰ء مضمون میں بڑی عمدگی کے ساتھ بیان کیا گیا ہے اور اس کے نتیجے میں جو غیر معمولی تکالیف افریقہ کے باشندوں کو اٹھانی پڑیں اور اب بھی اٹھائے چلے جارہے ہیں اس کی تفصیل بھی آپ کو تاریخ میں ملتی ہے اور اس مضمون میں بھی مختصراً ذکر ہے۔خلاصہ کلام یہی ہے کہ سارے افریقہ کے براعظم کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں یا بعض بڑے ٹکڑوں میں اس نیت سے بانٹ دیا گیا کہ اس خطہ زمین کے تمام تر مفادات اہل مغرب کو حاصل ہوں اور حاصل ہوتے رہیں۔اب آزادی کے بعد افریقہ کو جو اکثر مسائل در پیش ہیں وہ اسی غلط تقسیم کے نتیجے میں ہیں کیونکہ قومی بجہتی کا تصور ابھرنے کے ساتھ لسانی اشتراک کے خیالات بھی اُبھرتے ہیں اور جغرافیے کی حدود انسان اور پاتا ہے اور قومی بیجہتی اور لسانی اشتراک کی حدود اور طرح دیکھتا ہے۔پھر تاریخی طور پر افریقہ کی قوموں کی ایک دوسرے سے دشمنیاں ہیں مثلاً لائبیریا میں بعض قوموں کی بعض دوسری قوموں سے دشمنیاں ہیں لیکن یہ صرف ملک کے اندر نہیں بلکہ بڑے بڑے علاقوں میں یہ دشمنیاں پھیلی پڑی ہیں اور ان میں سے بعض دشمنی والی قوموں کو اس طرح کاٹ دینا کہ وہ نسبتا کمزور دوسری قوموں پر حاوی ہو جائیں، غرضیکہ بہت سی ایسی شکلیں ابھرتی ہیں جن کے نتیجے میں سارا افریقہ اس وقت بے اطمینانی ، عدم اعتماد اور منافرتوں کی لپیٹ میں ہے۔ان تمام نا انصافیوں کو دور کرنے کی طرف نہ کبھی کسی نے توجہ کی ، نہ اس کی ضرورت سمجھتے ہیں بلکہ اب تو معاملہ اس حد تک آگے بڑھ چکا ہے کہ یہ کہا جاتا ہے کہ اگر ان نا انصافیوں کو کالعدم کر کے افریقہ کی نئی تقسیم کی جائے تو جو موجودہ خطرات ہیں ان سے بہت زیادہ خطرات افریقہ کے امن کو در پیش ہوں گے۔پس یہ ہے خلاصہ تاریخ اور جغرافیہ کے تعلقات کا۔دلیل پیش کرنے والوں کی نرالی منطق اب جب ہم کو یت پر عراق کے قبضے کی طرف واپس آتے ہیں تو اس ساری صورت حال کا یہ تجزیہ میرے سامنے آیا ہے کہ اگر کوئی غیر مسلم ملک مسلمان ملک کی سرزمین پر قبضہ کرلے اور جغرافیہ