خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 75 of 376

خلیج کا بحران — Page 75

۷۵ ۹ نومبر ۱۹۹۰ء تبدیل کر دے تو دنیا کے امن کو کوئی خطرہ لاحق نہیں۔اگر کوئی مغربی طاقت یا سب طاقتیں مل کر ایک وسیع بر اعظم کے جغرافیے کو بھی تبدیل کر دیں اور تہس نہس کر دیں اور ایسی ظالمانہ تقسیم کریں کہ ہمیشہ کے لئے وہ ایک آتش فشاں مادے کی طرح پھٹنے کے لئے تیار بر اعظم بن جائے تو اس سے امنِ عالم کو کوئی خطرہ در پیش نہیں ہو گا لیکن اگر ایک مسلمان ملک کسی مسلمان ملک کی زمین پر قبضہ کرے تو اس سے سارے عالم کے امن کو خطرہ ہوگا اور اس عالمی خطرے کو ہم برداشت نہیں کر سکتے۔یہ آخری منطق ہے جو اس سارے تجزیے سے ابھر کر ہمارے سامنے آتی ہے۔اس کے باوجود کہ یہ ساری باتیں معروف اور معلوم ہیں، یہ کوئی ایسی تاریخ نہیں ہے جس کو میں نے کھوج کر کہیں سے نکال کر پڑھا ہے اور جس سے مسلمان دانشور واقف نہیں یا مسلمان ریاستوں کے سر براہ واقف نہیں ، سب کچھ ان کی نظر کے سامنے ہے اور دیکھتے ہوئے نہیں دیکھ رہے کہ اس وقت جو کچھ مشرق وسطی میں ہو رہا ہے یا ہونے والا ہے اس کا تمام تر نقصان اسلام کو اور اہل اسلام کو پہنچے گا اور تمام تر فائدہ غیر مسلم ریاستوں کو اور غیر مسلم مذاہب اور طاقتوں کو میسر آئے گا اس جنگ کی جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا جو بھی قیمت چکانی پڑے گی وہ تمام تر مسلمان ممالک چکائیں گے اور یہ جو عظیم الشان فوجوں کی حرکت ایک براعظم سے دوسرے براعظم کی طرف ہو رہی ہے یہ غیر معمولی اخراجات کو چاہتی ہے اس کے لئے دولت کے پہاڑ درکار ہیں لیکن یہ وہی دولت کے پہاڑ ہیں جو سعودی عرب نے اور شیخڈم نے ان ہی ملکوں میں بنارکھے تھے اور وہی اب قانونی طور پر ان کے سپردکر دیئے جائیں گے کہ یہ تمہارے ہو گئے۔ہمارا ان سے کوئی تعلق نہیں رہا اور نتیجہ ایک ابھرتے ہوئے اسلامی ملک کو ہمیشہ کے لئے نیست و نابود کر دینا اور مسلمانوں کے دل میں اس خیال کا پیدا ہونا بھی جرم قرار دیا جانا کہ وہ اپنی عزت نفس کے لئے کسی قسم کی کوئی آزاد کا رروائی کر سکتے ہیں۔عراق کو سمجھانے کی ناکام کوشش عراق کو بھی ہم نے بہت سمجھانے کی کوشش کی اور جس طرح بھی ہوا ان کو پیغام بھجوائے گئے