خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 73 of 376

خلیج کا بحران — Page 73

۷۳ ۹ نومبر ۱۹۹۰ء In actuality the division of Africa was done with mainly In most black African states European interests in mind south of the sahara the standard of living is falling, the people hungry, bewildered and disillusioned۔A part of the blame must be placed on the way the continent was, and is, divided۔Only a divine power could reverse this (The Plain Truth Oct۔1990) tragedy peaceably۔لکھتا ہے کہ ۱۸۸۴ء میں ۱۳ ایورپین ریاستوں کے نمائندے اور یونائیٹڈ سٹیٹس آف امریکہ کے نمائندے برلن میں اکٹھے ہوئے۔غرض کیا تھی ؟ افریقہ کی بندر بانٹ۔چنانچہ تمام افریقہ کے براعظم کو انہوں نے وہاں ایسے ٹکڑوں میں تقسیم کیا کہ کچھ ٹکڑے کسی کے حصہ اثر میں آئے اور کچھ ٹکڑے کسی اور کے حصہ اثر میں آئے۔غرضیکہ تمام یورپین ممالک نے اپنے اپنے حصہ اثر کے ٹکڑے چن لئے اور معاہدہ یہ ہوا کہ ہم ایک دوسرے کے حصہ اثر کے ٹکڑوں میں دخل نہیں دیں گے فی الحقیقت یہ تقسیم تمام تر یورپین ریاستوں کے مفاد میں کی گئی تھی۔اس کی تفاصیل اس مضمون میں بھی بیان ہوئی ہیں اور تاریخ میں ویسے ہی یہ مضمون پوری چھان بین کے ساتھ ہمیں تالیف ہوا ہوا ملتا ہے۔خلاصہ یہ ہے کہ ان تقسیمات میں ہر گز کسی افریقن قوم یا کسی افریقن ملک کے مفاد کوملحوظ نہیں رکھا گیا اور قوموں کو نہ قومیت کی بناء پر تقسیم کیا گیا، نہ لسانی یجہتی کی بناء پر تقسیم کیا گیا، نہ دیگر مفادات کو دیکھا گیا، نہ اقتصادی مفادات کو دیکھا گیا، نہ یہ دیکھا گیا کہ کہاں قدرتی دولتیں یعنی معدنیات موجود ہیں اور کہاں نہیں اور نہ یہ دیکھا گیا کہ ریاستیں بہت چھوٹی ہو جائیں گی اور اقتصادی لحاظ سے آزادی کے ساتھ چلنے کی اہل بھی رہیں گی یا نہیں ، نہ یہ دیکھا گیا کہ ریاستیں اتنی بڑی ہو جائیں گی کہ ان کے نتیجے میں دیگر ریاستوں کے حقوق خطرے میں پڑ جائیں گے اور ان کے مفادات کو خطرہ لاحق ہو جائے گا۔یہ وہ خلاصہ ہے جو ہمیں تاریخ میں بھی ملتا ہے اور اس