خلیج کا بحران — Page 265
۲۶۵ ۲۲ فروری ۱۹۹۱ء war,that and nothing else,that and only that" میں یقین رکھتا ہوں کہ اب اسرائیل کی حکمت اور اس کی عقل کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ جنگیں کرے اور اس کے سوا اور کوئی خلاصہ نہیں جنگ اور جنگ اور جنگ۔اس عبارت کو پڑھ کر مجھے Colerigde کی دوسطریں یاد آگئیں جو اس نے اپنی مشہور نظم Kubla Khan میں Kubla Khan کے متعلق لکھیں۔Kubla Khan کا ذکر کرتے ہوئے وہ لکھتا ہے۔And amid this tumult kubla heard from far ancestral voices prophesying war! اس غلغلے میں ، اس شور اور ہنگامے میں Kubla نے دور سے آتی ہوئی اپنے آباؤ اجداد کی آواز سنی جو جنگ کی پیشگوئی کر رہی تھی۔Kubla نے وہ آواز سنی یا نہیں سنی لیکن David-ben Gurion نے یقیناً Zion Hill سے بلند ہوتی ہوئی یہ آواز سنی ہے کہ اسرائیل ! آج کے بعد تمہارے قیام کا مقصد صرف ایک ہے اور صرف ایک ہے اور صرف ایک ہے کہ جنگیں کرتے چلے جاؤ اور تمام دنیا کو جنگ میں جھونکتے چلے جاؤ۔اس کے بغیر اسرائیل کا اور کوئی مفہوم نہیں ہے۔پس اس اسرائیل کی تائید میں امریکہ اور اس کے اتحادی اپنے آپ کو خواہ کسی دھوکے میں مبتلا رکھیں اس اسرائیل کی تائید کے بعد کسی امن کا تصور ممکن ہی نہیں ہے۔یہ اسرائیل کی سرشت میں داخل ہے ان کی تعریف میں داخل ہے کہ اب ساری دنیا کو ہمیشہ جنگوں میں جھونکنا ہے اور کیوں جھونکنا ہے؟ اس سلسلہ میں میں آخر پر اس راز سے پردہ اٹھاؤں گا اگر چہ یہ کوئی خاص بڑا راز بھی نہیں۔اسرائیل کی جنگی تیاریوں کا جہاں تک تعلق ہے ، اب تک دنیا کو یہ بتانے کی کوشش کرتے رہے ہیں کہ عراق دنیا کے لئے اتنا بڑا خطرہ ہے کہ وہ ہٹلر ہے، وہ Natsism کی ایک نئی نمود ہے نئی شکل میں Natsiism ظاہر ہوا ہے حالانکہ عراق کا یہ حال ہے کہ خود ایک مغربی مبصر نے لکھا کہ