خلیج کا بحران — Page 264
۲۶۴ ۲۲ فروری ۱۹۹۱ء عراق پر ایک مہینے سے کچھ زائد ، پانچ ہفتوں میں جتنے بم گرائے گئے ہیں وہ ۱/۲۔۱ ( ڈیڑھ لاکھ ٹن ہیں۔اس سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ کتنی شدت کے ساتھ یہاں مظالم کی بوچھاڑ کی جارہی ہے۔انسانی فطرت کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے۔یہ بم صدا میت کو مٹا نہیں رہے بلکہ لاکھوں نوجوانوں کے دل میں خواہ وہ عرب ہوں یا غیر عرب مسلمان ہوں مزید صدام پیدا کرنے کی تمنا پیدا کر رہے ہیں۔بہت سی ایسی نوجوان نسلیں ہیں جو آج ان حالات کو دیکھ رہی ہیں اور ان کے رد عمل میں ان کے دل فیصلہ کر چکے ہیں کہ ہم نے کل کیا کرنا ہے۔پس بموں کی بوچھاڑ سے یہ اگر میٹھے پھلوں کی توقع رکھیں تو اس سے بڑی جہالت ہو نہیں سکتی۔نفرتیں ہمیشہ نفرتوں کو پیدا کرتی ہیں۔نفرت کی وجہ کیا ہے؟ جب تک وہاں نہیں پہنچیں گے۔کون سی نفرتیں ہیں جنہوں نے ناصراور صدام پیدا کئے جب تک ان کا کھوج نہیں لگائیں گے اور ان کی بیخ کنی کی کوشش نہیں کریں گے اس علاقے کو امن نصیب نہیں ہوسکتا۔جہاں تک میں نے جائزہ لیا ہے اور حقائق اس بات کے گواہ ہیں ، دراصل اسرائیل کا قیام ہی تمام نفرتوں کا آغاز ہے، تمام نفرتوں کی جڑ ہے اور اسرائیل کے قیام کے تصور میں جنگیں شامل ہیں اور یہ بات جو میں کہہ رہا ہوں یہ اپنی طرف سے نہیں کہہ رہا بلکہ David Ben Gurion جو اسرائیل کے بانی مبانی ہیں، ان کا یہ دعویٰ ہے میں اس کا اقتباس پڑھ کر سناتا ہوں۔Making of Israel میں صفحہ 55 پر Games Cameron لکھتے ہیں:۔"For Ben-Gurion the word,state,had now no meaning other than an instrument of war" اسرائیل کے حصول کے بعد Ben-Gurion کے تصور میں اب ریاست کے کوئی اور معنی نہیں رہے سوائے جنگ کے "I can think of no other meaning now,he said یعنی Ben-Gorion نے کہا "I feel that the wisdom of isreal now is that to wage