خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 14 of 376

خلیج کا بحران — Page 14

۱۴ ۱۷ اگست ۱۹۹۰ء دھوکے باز، اس قسم کے الفاظ اور واقعہ اس کے پیچھے یہ ہے کہ ایک چھوٹی سی ریاست پر جو ایک مسلمان ریاست تھی ، ایک بڑی مسلمان ریاست نے قبضہ کیا ہے۔دنیا میں دوسری جگہ اتنے بے شمار ایسے واقعات اس سے بہت زیادہ خوفناک صورت میں ظاہر ہوئے ہیں اور ہوتے چلے جارہے ہیں کہ اُن کو اگر پیش نظر رکھا جائے تو یہ واقعہ اس کے مقابل پر کوئی بھی حیثیت نہیں رکھتا لیکن لازماً اس کے پیچھے بہت سے محرکات ہیں جن کے نتیجے میں اس کو اتنا غیر معمولی طور پر اچھالا گیا۔بہر حال قبضہ تو ہو چکا اس کے بعد اس قبضے کو ہضم کرنے کا معاملہ تھا اور جتنا شدید رد عمل دنیا میں ظاہر ہوا ہے اس کے نتیجے میں عراق کے صدر صدام حسین صاحب نے امریکہ کو یہ کہلا کے بھجوایا کہ اگر تم واقعہ انصاف چاہتے ہو تو پھر اس سارے علاقے میں انصاف برتا جائے اور ہم تیار ہیں کہ ہم اپنی چھوٹی برادر ریاست کی حکومت کو پہلے کی طرح بحال کرتے ہیں جو خاندان اس ریاست پر فائز تھا اُس کے سپر د دوبارہ اس ملک کی باگ ڈور کر دیتے ہیں اور پہلے کی طرح تمام حالات بحال کر دیئے جائیں گے۔اس علاقے میں اور بھی اس قسم کی باتیں ہیں اور بھی اسی قسم کے ناجائز قبضے ہیں جو تمہارے اتفاق کے ساتھ یا تمہارے اتحاد اور تمہاری سر پرستی کے ساتھ ہوئے ہیں تم اُن کو بھی اس نا جائز تسلط سے آزاد کراؤ۔مثلاً اُردن کے مغربی ساحل پر یہود کا جو قبضہ ہے جسے دن بدن وہ زیادہ مستحکم کرتے چلے جارہے ہیں اور اب روسی مہاجرین کو وہاں آباد کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس علاقے پر بھی غیروں کا قبضہ ہے بلکہ ایسے غیروں کا قبضہ ہے جو ہم مذہب بھی نہیں۔ایسے غیروں کا قبضہ ہے جن سے عرب کو شدید دشمنی ہے اور اس قبضے کو وہ مستقل صورت دیتے چلے جارہے ہیں اور تمہارے مغرب کے اخلاق نے اس ضمن میں کوئی رد عمل نہیں دکھایا۔مغرب کے انصاف کے تصور کے سر پر جوں تک نہیں رینگی اس لئے اُس کو بھی شامل کرو اور پھر شام (Syria) ایک اسلامی ملک ہے اُس نے لبنان میں اپنی فوجیں بھیجیں، وہاں تسلط کیا۔بار بار جب چاہے وہاں فوجیں بھجواتا ہے اور جو چاہے وہاں کرتا ہے اُس کو بھی باز رکھا جائے اور اس کی فوجوں کو واپسی کے لئے مجبور کیا جائے۔اس قسم کے یہ واقعات جو اسی علاقے سے تعلق رکھنے والے ہیں اُن کو ساتھ ملا کر غور ہونا چاہئے۔جہاں تک