خلیج کا بحران — Page 15
۱۵ ۱۷ اگست ۱۹۹۰ء صدام حسین صاحب کی اس بات کا تعلق ہے، نہایت معقول ہے اور اگر انصاف کے تقاضوں کے پیش نظر بات کرنی ہے تو پھر خصوصیت کے ساتھ اس علاقے میں رونما ہونے والے سارے واقعات کو یکجائی صورت میں دیکھنا ہوگا۔انصاف کا دہرا معیار اور ظالمانہ پروپیگنڈا اسی تعلق میں کچھ اور باتیں بھی ہیں۔صدام حسین صاحب نے اگر انصاف اور تقویٰ کی نظر سے دیکھا جائے تو کویت پر جو حملہ کیا ہے اس کی کوئی جائز وجہ نہیں ہے لیکن جیسا کہ بیان کیا گیا ہے اُس سے کم جائز وجہ یہودیوں کے پاس ہے کہ وہ اردن کے مغربی ساحل پر قبضہ مستقل بنالیں اور اس علاقے کو ہمیشہ کے لئے ہتھیا لیں لیکن اس کے علاوہ بھی بعض مظالم اُن کی طرف منسوب ہوئے۔مثلاً مغربی پریس نے یہ بات بہت ہی بڑھا چڑھا کر پیش کی کہ ایک انگریز کو نکلنے کی کوشش میں سرحد پار کرتے ہوئے یعنی ملک چھوڑنے کی کوشش میں انہوں نے گولیوں سے ہلاک کر دیا۔یہ ایک واقعہ ہے۔اس کے مقابل پر لبنان میں یا دیگر علاقوں میں یہود نے جو مسلسل مظالم کئے ہیں اور پھر یہودی ہوائی جہازوں نے عراق ہی کے ایٹمی پلانٹس کو جس طرح دن دھاڑے بڑی بے حیائی کے ساتھ تباہ و برباد کیا، ان سارے واقعات کو مغربی دنیا نے نظر انداز کیا ہوا ہے اور اس کے خلاف ایک انگلی تک نہیں اُٹھائی۔ایک علاقے میں ایک شخص مارا جاتا ہے،اس کے اوپر دنیا کے سارے اخبارات، ریڈیو، ٹیلی ویژن پر شور پڑ جاتا ہے کہ ظلم کی حد ہو گئی ہے۔ہزار ہا بوڑھے، بچے ، جوان جو کیمپوں میں بالکل نہتے پڑے ہوئے ہیں اُن کو جب بالکل مظلوم حالت میں تہہ تیغ کر دیا جاتا ہے اور بچوں کے سر پتھروں سے ٹکرا ٹکرا کر پھوڑے جاتے ہیں، بلبلاتی ہوئی ماؤں کے سامنے اُن کے بچے ذبح کئے جاتے ہیں اور پھر ان ماؤں کی باری آتی ہے۔لبنان کے ایک کیمپ میں اتنا ہولناک واقعہ گزر گیا ہے اور اس پر کسی نے کوئی شور نہیں مچایا۔تو سوال یہ ہے کہ کیا یہ انصاف کی باتیں ہیں یا اور باتیں ہیں۔محرکات اگر انصاف پر مبنی ہیں تو پھر انصاف تو ایک ہی نظر سے سب دنیا کو دیکھتا ہے۔انصاف کے