خلیج کا بحران — Page 13
۱۳ ۷ اسراگست ۱۹۹۰ء کے نتیجے میں جو مسلمان ریاست پر حملہ تھا آنا فانا پیشتر اس سے کہ دنیا باخبر ہوتی اس پر مکمل قبضہ کر لیا اور اس کے نتیجے میں اچانک تمام دنیا میں ایک بہیجان برپا ہوا اور وہ لوگ جو اسی قسم کے دوسرے واقعات پر نہ تکلیف محسوس کیا کرتے تھے، نہ کسی ہیجان میں مبتلا ہوتے تھے، نہ غیر معمولی مدد کے لئے دوڑے چلے آتے تھے ، کویت کے لئے اُن کی ہمدردیاں اس زور سے چمکی ہیں اور اس شدت کے ساتھ اُن کے اندر ہیجان پیدا ہوا ہے کہ اس زمانے کی تاریخ میں اس کی کوئی اور مثال دکھائی نہیں دیتی۔یہ جو عرصہ اب تک گزر چکا ہے اس کے دیگر حالات پر تو میں مزید روشنی نہیں ڈالنی چاہتا جو اخبار بین لوگ ہیں وہ جانتے ہیں کیا ہورہا ہے مگر محض اس حوالے سے کہ اسلام کے تقاضے یا اسلامی انصاف کے تقاضوں کا کہاں تک خیال رکھا جا رہا ہے یا کہاں تک موجودہ سیاست ان سے عاری ہے، اس پہلو سے میں چند باتیں آپ کےسامنے رکھنا چاہتا ہوں۔جب امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے پوری طرح سے بغداد کی حکومت کو غیر مؤثر کرنے اور گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کے لئے اقدامات شروع کئے تو دن بدن یہ محسوس ہونے لگا کہ یہ عظیم اسلامی مملکت ایسے خطرناک حالات سے دو چار ہونے والی ہے کہ جس سے نبرد آزما ہونا اس کے بس میں نہیں رہے گا۔اس وجہ سے مجھے بھی لازما غیر معمولی طور پر تشویش بڑھتی رہی اور میں بڑی گہری نظر سے جائزہ لیتا رہا کہ کس قسم کی گفت و شنید چل رہی ہے اور کیا حل پیش کئے جار ہے ہیں۔حال ہی میں جب شاہ حسین جو شرق اُردن کے بادشاہ ہیں انہوں نے امریکہ کا دورہ کیا تو پہلے تو یہ خیال تھا کہ کوئی خط لے کر گئے ہیں۔بعد میں پتا لگا کہ خط وطا تو کوئی نہیں ویسے ہی وہ کچھ پیغامات لے کر، کچھ تجاویز لے کر گئے ہیں۔اس ضمن میں جو ٹیلی ویژن اور ریڈیو اور اخبارات کے ذریعے امریکہ کے صدر نے اور عراق کے صدر صدام حسین صاحب نے ایک دوسرے کے لئے زبان استعمال کی یا ایک دوسرے پر الزامات لگائے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حالات کتنے ہیجان آمیز ہیں اور کس حد تک دنیا کی عظیم مملکتوں کے سربراہ بھی عام وقار سے اتر کر گھٹیا باتوں پر آجاتے ہیں۔حیرت ہوتی ہے اُن کے بیانات سُن کر کس طرح ایک دوسرے کے اوپر غلیظ زبان استعمال کی جارہی ہے۔جھوٹا ، گندے کردار والا ،