خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 78 of 376

خلیج کا بحران — Page 78

ZA ۹ نومبر ۱۹۹۰ء علمبر دار ہو بت خانوں میں تبدیل کرنا یہ محض ایک چھوٹا سا حادثہ نہیں بلکہ تمام اسلام کی بنیاد پر حملہ ہے اور اس کا جواثر ہے وہ ہندوستان پر بہت دور تک پھیلے گا اور اس کے نتیجے میں مسلمانوں کا امن ظاہری طور پر بھی ہندوستان سے اُٹھ جائے گا اور بہت ہی خوفناک فسادات کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہو گا جس کو روکا نہیں جاسکے گا۔بہر حال یہ ایک بہت ہی غیر معمولی جذباتی اور اعتقادی اہمیت کا معاملہ ہے جسے عالم اسلام کو سمجھنا چاہئے لیکن اس کے ساتھ ہی جو ر د عمل اس کے نتیجے میں پیدا ہونا چاہئے وہ اسلامی رد عمل ہونا چاہئے۔مجھے افسوس ہے کہ یہاں بھی ویسی ہی صورتحال ہے جیسا کہ عراق سے تعلق رکھنے والے مسائل کی ہے۔ایک طرف ہم بنگلہ دیش پر نظر ڈالتے ہیں کہ اسے غصے میں کہ بعض ہندوؤں نے یا یوں کہنا چاہئے کہ لاکھوں ہندوؤں نے بابری مسجد پر حملے کی کوشش کی اور بعض اس میں داخل بھی ہو گئے اور پہلے سے نصب شدہ بُت کی وہاں عبادت بھی کی گئی ، انہوں نے بہت سے مندر جلا ڈالے اور منہدم کر دیئے اور بہت سے ہندوؤں کی املاک لوٹ لیں اور ان کا قتل و غارت کیا۔کیا یہ اسلامی رد عمل ہے؟ یقینا نہیں۔ناممکن ہے کہ اسلامی تعلیم کی رو سے اس رد عمل کو جائز قراردیا جائے۔اسلام تمام دنیا کے مذاہب کی عظمت اور ان کی حرمت کی حفاظت کرتا ہے۔عظمت کی حفاظت ان معنوں میں نہیں کہ ان کے سامنے اعتقادی لحاظ سے سر جھکانے کی تعلیم دیتا ہے بلکہ اس لحاظ سے کہ جو ان مذاہب کو عظیم سمجھتے ہیں ان کو قانونی تحفظات مہیا کرنے کی تلقین کرتا ہے کہ وہ جس طرح چاہیں، چاہے باطل کو بھی عظیم سمجھیں وہ جس کو عظیم سمجھنا چاہتے ہیں عظیم سمجھتے رہیں۔پس جہاں تک ان کے دلوں کا اور ان کے دلوں کے احترام کا تعلق ہے ان کی حفاظت کرنا دراصل ان مذاہب کی عظمت کی حفاظت کرنا ہے اور حرمت کی حفاظت اس طرح کرتا ہے کہ مسلمان کو یہ اجازت نہیں کہ وہ دوسروں کے عبادت خانوں کو منہدم کرے اور ان کی جگہ خواہ مسجد بنائے یا کچھ اور تعمیر کر دے۔پاکستان میں ہونے والے ظلم کار د عمل ہندوستان میں جو کچھ ہو رہا ہے یہ دراصل پاکستان میں ہونے والے چند واقعات کا رد عمل