خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 77 of 376

خلیج کا بحران — Page 77

LL ۹ نومبر ۱۹۹۰ء وہ بھی ہو رہا ہے لیکن سب سے بڑی دردناک بات یہ ہے کہ وہاں بھی تاریخ کے نام پر ایک اور طرح کی جغرافیائی تبدیلی کی جارہی ہے۔کہا جاتا ہے کہ ساڑھے تین سو سے چار سو سال کے عرصے کے درمیان، پہلے بابر نے ایک ہندو مندر کو جو اجودھیا میں پایا جاتا تھا اور رام کا مندر کہلاتا تھا Demolish کر دیا، منہدم کر دیا اور اس کی جگہ ایک مسجد تعمیر کر دی جسے بابری مسجد کہا جاتا ہے۔اس کے متعلق تاریخی حوالے کس حد تک مستند ہیں۔یہ بحث ہندوستان کی ایک عدالت میں ابھی جاری ہے لیکن زیادہ تر بنیاد اس الزام کی ایک مسلمان درویش کی ایک رویا پر ہے جس نے یہ دیکھا تھا کہ بابری مسجد کے نیچے رام کا مردہ دفن ہے اور اس لئے یہاں پہلے ایک مندر ہوا کرتا تھا اور اس کی جگہ اب مسجد بنائی گئی ہے تو یہاں گویا کہ رام مدفون ہو گیا۔کسی کی یہ رویا بھی بہت پرانی ہے۔یہ وہ حوالہ ہے جس کی رو سے ہندوؤں نے اپنے عدالتی کیس کو تقویت پہنچانے کی کوشش کی ہے اور دیگر بھی بہت سی ایسی سندات پیش کرتے ہیں جن کی فی الحقیقت کوئی تاریخی حیثیت نہیں مگر بہر حال یہ تو عدالتی معاملہ ہے، اس میں زیر بحث ہے مگر قطع نظر اس کے کہ یہ دعوی سچ ہو یا جھوٹ، چارسوسال پہلے کی تاریخ کو اگر اس طرح تبدیل کرنے کی آج کوشش کی جائے تو اس کو صرف اس اصول پر جائز سمجھا جاتا ہے جو مغربی طاقتوں کا اصول ہے کہ اگر غیر مسلم کریں تو جائز ہے، اگر مسلمان کریں تو جائز نہیں ہے۔مسلمانوں کے لئے نہ اس وقت جائز تھا، نہ اب جائز ہے کہ اس عمارت کو اپنے پاس رکھیں اور ہندوؤں کے لئے یہ جائز ہے کہ جب چاہیں پرانی تاریخ کے حوالے سے آج کے قبضوں کی کیفیت بدل دیں اور آج کے جغرافیہ کو تبدیل کر دیں۔پس ہندوستان میں بھی مسلمانوں کے لئے بہت ہی بڑا خطرہ درپیش ہے لیکن یہ خطرہ دراصل ان خطرات سے زیادہ ہے جو جغرافیائی خطرات دیگر جگہوں پر در پیش ہیں۔یہاں اسلام کی عظمت اور اسلام کی تو حید کو خطرہ ہے۔خدا تعالیٰ کی عظمت اور خدا کی تو حید کو ایک خطرہ درپیش ہے۔وہ جگہ جہاں خدائے واحد کی عبادت کی جاتی تھی وہاں اب بے حقیقت اور ایسے جوں کی عبادت کی جائے گی جو جن خداؤں سے وابستہ ہیں ان خداؤں کا ہی کوئی وجود نہیں۔پس ایک خدائے واحد کی عبادتگاہ کو جو تو حید کی