خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 79 of 376

خلیج کا بحران — Page 79

۷۹ ۹ رنومبر ۱۹۹۰ء ہے۔جس طرح ہندوستان میں ہونے والے واقعات کا ایک رد عمل مشرقی بنگال میں یا یوں کہنا چاہئے کہ بنگلہ دیش میں ظاہر ہوا اور سندھ کے بعض علاقوں میں ظاہر ہوا اسی طرح ظلم کے رد عمل دوسری جگہ ہوتے رہتے ہیں اور ہندوستان میں جو کچھ ہو رہا ہے اس میں یہ حوالہ دیا جارہا ہے کہ پاکستان میں بھی تو یہی کچھ ہوتا ہے۔پاکستان میں بھی تو انتہاء پرست مُلاں مذہب کے نام پر اپنے اقتدار کو غیروں پر قائم کرنے کا دعویٰ کرتا ہے اس لئے وہ ہندو پارٹی جو دراصل اس سارے فساد کی ذمہ دار ہے اس کے راہنما بار بار یہ حوالے دے چکے ہیں کہ اگر پاکستان کے ملاں کو یہ حق ہے کہ اسلام کے نام پر جن کو وہ غیر مسلم سمجھتا ہے ان کے تمام انسانی حقوق دبا لے تو کیوں ہندومت ہمیں اس بات کی اجازت نہیں دے سکتا کہ ہم ہندومت کے نام پر ہندومت کی عظمت کے لئے تمام مسلمانوں کے تمام بنیادی حقوق دبا لیں۔چنانچہ ایک موقع پر گزشتہ الیکشنز میں اس نے یہ اعلان کیا کہ مسلمانوں کو میں یہی نصیحت کرتا ہوں کہ یا ہندوؤں کے اقتدار میں کلیۂ ان کے حضور سر تسلیم خم کرتے ہوئے اس ملک میں زندہ رہیں یا اپنا بوریا بستر لپیٹیں اور اس ملک سے رخصت ہو جائیں کیونکہ ہندوستان میں اس لیڈر کے نزدیک اب مسلمان اور اسلام کی کوئی جگہ باقی نہیں رہی۔یہ ویسا ہی اعلان ہے اور اس حوالے سے کیا گیا ہے جو پاکستان کے ملاں نے احمدیوں کے متعلق کیا۔وہاں تو انہوں نے غیر مسلم ہوتے ہوئے مسلمانوں کے خلاف، ان مسلمانوں کے خلاف یہ اعلان کیا جو دعویٰ کرتے تھے کہ ہم مسلمان ہیں کسی ہندو فرقے کو زبر دستی مسلمان بنا کر ان کے خلاف یہ اعلان نہیں کیا اس لئے نا انصافی تو ہے لیکن اس نا انصافی کی جو بنیاد ہےاس بنیاد کے قیام میں کوئی نا انصافی نہیں۔کھل کر انہوں نے یہ کہا کہ جو غیر ہندو ہے اس کے لئے ہمارے یہ جذبات ہیں مگر غیر ہندو کا فیصلہ غیر ہندو کرے گا۔ہم زبر دستی بعضوں کو غیر ہند و قرار دے کر ان پر اپنے فیصلے نہیں ٹھونسیں گے۔مگر پاکستان میں جو ظلم اور زیادتی ہوئی وہ اس سے بھی ایک قدم آگے ہے وہاں پہلے اسلام کے جانثاروں کو ، حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی صداقت کا کلمہ پڑھنے والوں کو، خدا تعالیٰ کی توحید کا کلمہ پڑھنے والوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا اور پھر ان سے وہ تمام ناروا سلوک کئے