خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 76 of 376

خلیج کا بحران — Page 76

۷۶ ۹ رنومبر ۱۹۹۰ء کہ آپ خدا کے لئے خود اپنے مفاد کی خاطر اور اس اسلامی مفاد کی خاطر جو آپ کے پیش نظر ہے اس ناانصافی کے قدم کو پیچھے کر لیں کیونکہ تاریخ کے حوالے سے اگر جغرافیے تبدیل ہونے لگیں تو جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے، افریقہ میں بھی اب یہ ناممکن ہو گیا ہے۔دنیا میں اکثر جگہوں پہ یہ ممکن نہیں رہا اس لئے خود آپ کا مفاد اس میں ہے، کویت کا مفاد اس میں ہے، عالم اسلام کا مفاد اس میں ہے کہ اس اٹھے ہوئے قدم کو واپس لے لیں اور اپنی طاقت کو بڑھائیں اور عالم اسلام کو متحد کرنے کی کوشش کریں لیکن افسوس کہ وہاں بھی یہ بات نہیں سنی گئی اور دیگر مسلمان عرب ممالک نے بھی ذرہ بھی دھیان اس بات پر نہیں دیا کہ ہم غیر مسلم طاقتوں سے مل کر ان کے سارے ظلم کا خرچ برداشت کرتے ہوئے ایک مسلمان ریاست کو تباہ و برباد کرنے پر تلے ہوئے ہیں جس کے بعد اس تمام علاقے سے ہمیشہ کے لئے امن اٹھ جائے گا۔عالمی امن کو خطرہ ہے یا نہیں ہے مگر یہ ریاستیں جو اس جنگ کا خرچ برداشت کرنے والی ہیں اور کرایے کے لڑنے والوں کو باہر سے بلا کر لائی ہیں ان کو میں یقین دلاتا ہوں کہ پھر وہ کبھی اپنے ماضی کی طرف واپس لوٹ کر نہیں جاسکیں گی۔بد حال سے بد حال تک پہنچتے چلے جائیں گے اور کبھی پھر امن اس علاقے کا منہ دوبارہ نہیں دیکھے گا اس لئے اب اس نصیحت کے بعد جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے دعا ہی باقی رہ جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ رحم فرمائے اور ان کو عقل دے اور ہماری نصیحت کی بات خواہ کتنی ہی کمزور کیوں نہ معلوم ہوتی ہو اپنے فضل سے اس میں طاقت بخشے اور دلوں کو اسے قبول کرنے پر آمادہ فرما دے کیونکہ اللہ ہی ہے جو ان حالات کو تبدیل کر سکتا ہے۔بہت خوب اس لکھنے والے نے لکھا کہ Only a Divine power could reverse this tragedy peaceably کہ اب تو صرف کوئی الہی طاقت ہی ہے جو اس انتہائی دردناک صورتحال کو پر امن کیفیت کے ساتھ تبدیل کر دے۔پر امن کوششوں کے ذریعے تبدیل کر دے۔ہندوستان میں جغرافیائی تبدیلی لانے کی کوشش اب ہم ہندوستان پر نگاہ ڈالتے ہیں وہاں پہلے جو ہو چکا وہ ہو چکا۔جو کشمیر میں اب ہو رہا ہے