خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 41 of 376

خلیج کا بحران — Page 41

ام ۲۴ /اگست ۱۹۹۰ء کے ذخائر بن گئے جس سے ان کی سرمایہ کاری کو غیر معمولی تقویت ملی اور دوسرے ہر خطرے کے وقت ان کی دولت پر قابض ہونے کا اختیار ان کو حاصل ہو گیا۔اب جہاں دوسری جگہ امانت کی باتیں کرتے ہیں وہاں ان کے امانت کے تصور بدل جاتے ہیں یعنی ایک شہری جب دوسرے ملک میں جاتا ہے تو اس کی امانت ہے اس میں خیانت نہیں کرنی چاہئے مگر امن اور دوستی کے زمانے میں اعتماد کرتے ہوئے ایک بین الاقوامی مالی نظام کے تحفظات سے استفادہ کرتے ہوئے یا ان پر غلطی سے یقین کرتے ہوئے جب دولتیں ان کے بینکوں میں جمع کرائی جاتی ہیں تو کیا حق ہے ان کا کہ کسی دشمنی کے وقت بھی ان کی دولت کے اوپر ہاتھ رکھ دیں اور کہیں کہ اس کو ہم بنی نوع انسان کے فائدے میں سیل (Seal) کر رہے ہیں، سر بمہر کر رہے ہیں۔کتنے ہی مشرقی ممالک ہیں جن کی دولتیں اس طرح ہر لڑائی اور ہر خطرے کے وقت سر بمہر کر دی گئیں اور اب بھی کو بیت کی دولت سر بمہر کی گئی لیکن وہ ان کو بعد میں ان کی دوستی کی وجہ سے چھوڑ دینے کی نیت سے اور عراق کا سارا سرمایہ جو غیر ملکوں میں تھا، اسے سر بمہر کر دیا گیا ، تو یہ دجل کی باریکیاں ہیں لیکن ان تمام چالا کیوں کو اور ان تمام ظلموں کو یہ ایک نہایت نفیس Civilize زبان میں پیش کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں اور اس میں درجہ کمال کو پہنچے ہوئے ہیں۔اس کے مقابل پر ہر دفعہ بد نصیب عرب مسلمان دنیا نے ہوش کا جوش سے مقابلہ کرنے کی کوشش کی ہے اور ہر دفعہ جوش کو ہوش سے ٹکرا کر جوش کو پارہ پارہ کروایا ہے اور مسلمان دنیا کو مزید ذلیل و رسوا کر وایا ہے۔سب سے بڑی غلطی عرب دنیا نے یہ کی اور ہمیشہ کرتی چلی گئی کہ یہ سیاسی محرکات اور یہ دنیاوی معاملات جن میں خود غرض قوموں کا رد عمل مذہب کی تفریق کے بغیر ہمیشہ ایک ہی ہوا کرتا ہے۔ان محرکات کو ان کے مواضع پر جہاں یہ واقع ہیں، ان تک رکھنے کی بجائے ان کو مذہب میں تبدیل کر دیا گیا اور جو نفرت پیدا کی گئی وہ اسلام کے نام پر پیدا کی گئی ان قوموں کا جن قوموں نے آپ کے مفادات پر حملہ کیا ہے۔مقابلہ کرنے کا انسانیت آپ کو حق دیتی ہے۔اس کو بلا وجہ اسلامی جہاد میں تبدیل کر کے ان کو اور موقع دیا گیا کہ پہلے تو یہ صرف اسلامی دنیا پر حملہ