خلیج کا بحران — Page 42
۴۲ ۲۴ /اگست ۱۹۹۰ء کرتے تھے اب وہ اسلام پر بھی حملہ کریں اور تمام بنی نوع انسان کو کہیں کہ اصل بیماری اسلام ہے۔اسرائیلیت نہیں ہے ہماری نا انصافیاں نہیں ہیں بلکہ اسلام ایک سج مذہب ہے جو کبھی پیدا کرتا ہے۔ایک غیر منصفانہ مذہب ہے جو غیر منصفانہ خیالات کو فروغ دیتا ہے اور ساری بیماریاں اسلامی طرز فکر میں ہیں۔چنانچہ ایران کے رد عمل میں بھی جو غیر اسلامی رد عمل تھا اور جس کا اسلام سے کوئی دور کا بھی واسطہ نہیں تھا لیکن دنیا وی اصول کے مطابق اگر اس کو پیش کیا جاتا تو بہت حد تک دنیا کو مطمئن کر وایا جاسکتا تھا کہ ہم مظلوم رہے ہیں۔اب ہمارا وقت ہے انتقام لینے کا ، ہم مجبور ہیں دنیا کسی حد تک اس کو سمجھ سکتی تھی لیکن اسلامی دنیا کی لیڈرشپ کی جہالت کی حد ہے کہ قول سدید کی بجائے ، دنیا کو صاف بات بتانے کی بجائے کہ ہم مجبور ہیں ہم بے اختیار ہیں۔جب بھی ہمیں موقع ملے گا ، انہوں نے ہمارے اندر اتنی نفرتیں پیدا کی ہیں اور نا انصافیوں کی اتنی صدیاں ہمارے موجودہ رد عمل کے پیچھے کھڑی ہیں کہ ہم مجبور ہو کر ایک کمزور آدمی کا رد عمل دکھائیں گے جس کے ہاتھ میں جب اینٹ آتی ہے تو وہ اٹھا کر مارتا ہے پھر یہ نہیں سوچا کرتا کہ اس کے نتیجے میں اس کو کیا سزا ملے گی یا طاقتور اس سے کیا سلوک کریں گے۔اس صورتحال کو تقویٰ کے ساتھ اور اسلامی تعلیم کے مطابق قول سدید کے ساتھ نتھار کر اور کھول کر دنیا کے سامنے پیش کرنے کی بجائے ، جس میں غیر معمولی فوائد مضمر تھے، انہوں نے پھر اسلام پر حملہ کروانے کے ان کو مواقع فراہم کئے۔پہلے کہا کہ ہمارے بدن پر حملہ کرو پھر کہا کہ آؤ اب ہماری روح پر بھی حملہ کرو، اور ایسے ظالمانہ طور پر اسلامی تعلیم کو توڑ مروڑ کر پیش کیا کہ اس کے نتیجے میں دنیا کے تمام اہل دانش جانتے تھے کہ یہ مذہبی رد عمل نہیں ہے اس لئے اگر یہ مذہبی کہتے ہیں تو بہت اچھا، ہم ان کے مذہب پر حملہ کرتے ہیں اور دنیا کو بتاتے ہیں کہ مذہب ٹیڑھا ہے،۔ان کے دماغ ٹیڑ ھے نہیں ہیں۔امیران میں مغربی طاقتوں کی ریشہ دوانیاں پس وہ سر جن کو یہ بیمار سروں کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کرتے تھے اور جوان کی بیماری کی وجہ سے بیمار ہوئے ، اسی مسلمان دنیا نے ان کو موقع فراہم کئے کہ ان کی بیماری کی وجہ بھی اسلام