خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 40 of 376

خلیج کا بحران — Page 40

۴۰ ۲۴ /اگست ۱۹۹۰ء جائے گا اور اس وقت ایران شور مچارہا تھا کہ ظلم ہوگیا ، اندھیر نگری ہے ،ایسی سفا کی ہے۔وہ اپنے بیماروں کی تصویر میں دکھا رہا تھا اور چند ایک معمولی جھلکیوں کے بعد انہوں نے وہ منظر دنیا کے سامنے لانے بند کر دیئے۔اب جبکہ اس جس کو یہ سر پھرا کہتے ہیں اور بیمار دماغ کہتے ہیں اس بیمار دماغ کو جس کو انہوں نے خود پیدا کیا ، جب اس بیمار دماغ کو ذلیل و رسوا کرنا پیش نظر ہے تو وہی تصویر میں جو ایران کے وقت پہلے ایران دکھایا کرتا تھا وہ اب ساری دنیا کو دکھا رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ ایسا ظالم شخص جس نے اپنے بھائی ایرانی مسلمانوں پر ایسے ظلم کئے تھے اس کے ظلم سے دنیا کیسے بچے گی۔وہ دوسروں پر رحم کرے گا یا ان سے انسانیت کا سلوک کرے گا۔تو یہ ردعمل جو ہے یہ بھی وہی پرانے رد عمل اور وہی پرانا طریق یعنی بیماری کو نہیں دیکھتے جو بیمارسر پیدا کرتی ہے، ان طاقتوں کو جو یہ خود طاقتیں ہیں نظر انداز کر دیتے ہیں جو بیماری پیدا کرنے میں مسلسل محمد رہتی ہیں اور ایک بیماری کو آغاز سے لے کر نقطہ انجام تک پہنچاتی ہیں بلکہ آخر پر توجہ صرف بیمارسروں کی طرف مبذول کرا دیتے ہیں کیونکہ ان کو انہوں نے تن سے جدا کرنا ہوتا ہے اس لئے دنیا کو یہ دکھانے کے لئے کہ ہم مجبور ہیں ایک پاگل ذہن ابھرا ہے جس کا یہ مقدر ہے کہ اسے تن سے جدا کیا جائے ورنہ وہ باقی دنیا کے سروں کے لئے خطرہ بن جائے گا۔عربوں اور امیرانیوں کے ساتھ مغرب کا ظالمانہ سلوک آخری بات وہی ہے۔یہ بیمار ذہن کیوں پیدا ہورہا ہے؟ اس لئے کہ مسلسل مغرب کا سلوک خصوصاً عرب مسلمانوں سے اور ایران کے مسلمانوں سے ظالمانہ رہا ہے، سفا کا نہ رہا ہے، جارحانہ رہا ہے اور باوجود اس کے کہ ان میں بہت سے ممالک کی دوستیوں کے ہاتھ انہوں نے جیتے۔ان کی سر پرستیاں کیں اور بظاہر ان کے مددگار بنے لیکن عملاً اس کی وجہ واضح تھی کہ ان سے استفادہ کرنے کے لئے سب سے اچھا ذریعہ ان سے دوستی پیدا کرنا تھا۔ان کے تیل کی دولت تمام کی تمام اپنے بینکوں میں رکھوائی اور اس سے دہرا فائدہ اٹھایا۔ایک تو یہ کہ وہ بہت بڑے دولت