خلیج کا بحران — Page 39
۳۹ ۲۴ /اگست ۱۹۹۰ء تھیں۔ان کے ذریعے بھی مدد کروائی گئی اور براہ راست بھی یہاں تک کہ ایک موقع پر جبکہ عراق کو شدید خطرہ لاحق ہوا اور صاف نظر آنے لگا کہ ایرانی فوجیں اب بغداد پر قابض ہو جائیں گی تو اس وقت امریکہ نے کھلم کھلا اعلان کیا کہ ایسا نہیں ہوگا یا ایسا نہیں کرنے دیا جائے گا۔چنانچہ بڑی تیزی کے ساتھ ان کی مدافعانہ طاقت کو بڑھا کر جارحانہ طاقت میں تبدیل کیا گیا اور یہ جو دنیا میں آج پرو پیگنڈا کیا جا رہا ہے کہ ایسا ظلم اور بے حسی ہے کہ Poisonous گیسیں جو اعصاب کو تباہ کرنے والی یا جسم پر چھالے ڈالنے والی یا دم گھوٹنے والی گیسیں ہیں ، بنی نوع انسان کے خلاف ان کو استعمال کرنے میں کوئی جھجک محسوس نہیں کرتے ، اس لئے اس ظالم سے دنیا کو نجات دلانا ضروری ہے۔کل یہی وہ قومیں تھیں جنہوں نے وہ گیس بنانے کے طریقے ان کو سکھائے تھے۔ان کے علم میں تھا اور ان کی آنکھوں کے سامنے مسلسل وہ فیکٹریاں بنائی گئیں اور ان کا Know how ان کو عطا کیا گیا کیونکہ اس وقت مقابل پر بڑا دشمن ایران تھا اور ان قوموں کا یہ کہنا ، اگر آج یہ کہیں کہ ہمیں تو علم نہیں ، یہ کام تو عراق نے خفیہ طور پر خود بخو دکر لئے ، یہ بالکل جھوٹ ہے۔لیبیا میں جب گیسوں کے کارخانوں کا آغاز ہوا تو اس وقت انہوں نے وہاں بمباری کی اور دنیا میں اعلان کیا کہ ہم کسی قیمت پر اس کارخانے کو قائم نہیں ہونے دیں گے کیونکہ یہ دنیا کے امن کے لئے بہت بڑا خطرہ ہوگا اور پھر تفاصیل بیان کیں جو حیرت انگیز طور پر درست تھیں۔انہوں نے کہا کہ لیبیا کہتا ہے کہ ہم یہ گیسیں نہیں بنار ہے بلکہ دوسری قسم کی فرٹیلائز ریا اور کیمیا تیار کر رہے ہیں تو ہم ان کی تصویر میں آپ کو دکھاتے ہیں اندر سے یہ وہ کارخانہ ہے، یہاں یہ چیزیں بن رہی ہیں اور یہ یہ چیزیں پیدا ہورہی ہیں۔اتنی ہو چکی ہیں ایک ایک جزء ایک ایک تفصیل کا ان کو علم تھا اور دنیا کے سامنے اس کو پیش کیا۔تو عراق کے معاملے میں کس طرح آنکھیں بند تھیں جب اس کی پشت پر کھڑے تھے اور چاہتے تھے کہ کسی قیمت پر بھی ایران کو عراق پر یا عرب دنیا پر فوقیت حاصل نہ ہو اور غلبہ حاصل نہ ہو ورنہ ان کو خطرہ تھا کہ پھر سارا معاملہ ان کے اختیار اور قبضہ قدرت سے باہر نکل