خلیج کا بحران — Page 356
۳۵۶ ۸ مارچ ۱۹۹۱ء رحم کا جذ بہ غالب ہے۔مغربی عیسائی قوم کے لئے ایک نصیحت عیسائی مغربی قوموں کو بھی میں خلوص دل سے یہ سمجھانا چاہتا ہوں کہ قرآن اور احادیث میں مندرج پیشگوئیوں میں آپ کے لئے جن عبرتناک سزاؤں کا ذکر ملتا ہے انہیں حقارت اور استہزاء کی نظر سے نہ دیکھیں آسمانی نوشتے کبھی زمینی چالاکیوں سے ٹالے نہیں جاسکتے اگر ٹالے جاسکتے ہیں تو سچی تو بہ اور استغفار اور پاک تبدیلی سے اگر ایسا ہوتو اللہ تعالیٰ کی مغفرت جو اس کے غضب پر حاوی ہے ہر مقدر سزا کو ٹالنے یا کالعدم کرنے پر قادر ہے۔پس ضروری ہے کہ اپنی سیاسی اور اقتصادی اور اخلاقی اور معاشرتی طرز فکر میں بنیادی تبدیلی پیدا کریں۔ہر میدان میں بلا استثناء عدل کے تقاضوں کو قومی اور نسلی مفادات کے تقاضوں پر غالب کریں۔غریب اور کمزور قوموں سے حسن سلوک کریں۔اگر اسلام قبول نہیں کر سکتے تو کم سے کم تو رات اور انجیل کی پاکیزہ تعلیم ہی کی طرف لوٹیں اور اپنی تہذیب کو ہر لحظہ بڑھتی ہوئی بے حیائی سے پاک کریں۔اگر آپ ایسا کریں تو آپ کی تقدیر شر، تقدیر خیر میں بدل جائے گی اور اہل اسلام اور دوسرے بنی نوع انسان کے ساتھ مل کر آپ کو ایک نظام نو کی تعمیر کی تو فیق ملے گی اور انسان کا امن عالم کا خواب حقیقت میں ڈھل جائیگا۔اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو نظام کہنہ تو بہر حال مٹایا جائے گا لیکن اس کے ساتھ ہی بہت سی قوموں کی عظمتیں بھی مٹادی جائیں گی اور ہمیشہ کیلئے ان کی جاہ وحشمت خاک میں مل جائے گی مگر میری تو یہی تمنا اور یہی دعا ہے کہ نظام جہان نو ، تباہ شدہ قوموں کے کھنڈرات پر نہیں بلکہ تبدیل شدہ اور اصلاح پذیر قوموں کی آب و گل سے تعمیر کیا جائے۔جہاں تک ہمارا تعلق ہے، ہمیں تو ہمارے خدا نے پہلے ہی بتادیا ہے کہ تم کمزور ہو۔چودہ سو سال پہلے محمد رسول اللہ ﷺ نے یہ نصیحت فرما دی تھی کہ خدا نے اتنی بڑی بڑی قو میں آئندہ نکالنی ہیں