خلیج کا بحران — Page 355
۳۵۵ ۸ مارچ ۱۹۹۱ء یعنی اگر کوئی قوم جنسی بے حیائی میں مبتلا ہو جائے اور اس کی نمائش کرے تو اس میں ایک قسم کی طاعون کی بیماری پھیل جاتی ہے جو ان سے پہلوں میں کبھی نہیں پھیلی۔یہ وہ حدیث ہے خصوصیت کے ساتھ Aids کی بیماری کی طرف کھلے کھلے لفظوں میں اشارہ کر رہی ہے اور یہ Aids وہ بیماری ہے جسے ایک قسم کی طاعون کہا جاتا ہے اور یہ وہ بیماری ہے جس کے بارہ میں کہا جاتا ہے کہ اس سے پہلے کبھی دنیا میں نہیں پھیلی۔دلچسپ بات ہے کہ بانی سلسلہ احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد کو بھی خدا تعالیٰ نے ایک نئی قسم کی طاعون پھیلنے کی خبر دی تھی۔یہ ۱۳ مارچ ۱۹۰۷ء کا الہام ہے۔فرماتے ہیں۔یورپ اور دوسرے عیسائی ملکوں میں ایک قسم کی طاعون پھیلے گی جو بہت ہی سخت ہوگی ( تذکر صفحہ:۵۹۵) پس ایک یہ ہلاکت ہے جو آج نہیں تو کل مقدر ہے۔اگر ان قوموں نے اپنی اصلاح نہ کی تو ان کی بداعمالیوں کے نہایت خوفناک نتائج نکلیں گے۔اس موقعہ پر یہ وضاحت ضروری ہے کہ انذاری یعنی ڈرانے والی پیشگوئیاں ہمیشہ مشروط ہوتی ہیں خواہ ظاہری لفظوں میں شرط کا ذکر ہو یا نہ ہو۔اس کی واضح مثال حضرت یونس کے واقعہ میں ملتی ہے کہ ایک قطعی پیشگوئی ان کی قوم کی تو بہ اور گریہ وزاری سے ٹل گئی۔پس اسرائیل کی تباہی یا بقا کا فیصلہ اگر چہ آسمان پر ہوگا لیکن اگر یہود کے معتدل مزاج اور امن پسند عناصر، انتہاء پسند صیہونیوں پر غلبہ حاصل کرلیں اور ان کی سرشت میں داخل بہیمانہ انتقام پسندی کے پہنچے کاٹ دیں اور بحیثیت قوم یہود یہ انقلابی فیصلہ کرلیں کہ مسلمان ہوں یا عیسائی ہر دوسری قوم سے انصاف بلکہ احسان کا معاملہ کریں گے تو میں انہیں یقین دلاتا ہوں کہ جیسا کہ۔قرآن کریم میں وعدہ ہے اللہ تعالیٰ ان سے احسان کا سلوک فرمائے گا اور مسلمان بھی ان کے ساتھ عدل واحسان کا سلوک کریں گے انہیں یا درکھنا چاہئے کہ ملاں کی سرشت اسلام کی سرشت نہیں۔قرآن اور اسوۂ نبوی ﷺ نے جو سرشت مسلمان کو بخشی ہے اس میں انتقام نہیں بلکہ عفوا ور بخشش اور