خلیج کا بحران — Page 357
۳۵۷ ۸ مارچ ۱۹۹۱ء کہ دنیا میں کسی انسان کو ان کے مقابلے کی طاقت نہیں ہوگی اس لئے دنیاوی ہتھیاروں سے ان کے مقابلے کی کوشش کا خیال بھی دل میں نہ لانا۔یہ مسلم کی کتاب الفتن کی حدیث ہے ہر شخص اس میں مطالعہ کر سکتا ہے۔فرمایا! دعا کے ذریعے ہوگا جو کچھ ہو گا۔خدا کی تقدید ان کو مارے گی اور خدا کی تقدیر یہ فیصلہ اس وقت کرے گی جب یہ طاقتور قومیں دنیا سے بدی کا فیصلہ کریں گی چونکہ خدا نے دنیا کو نہتا کر رکھا ہے مجبور کر رکھا ہے اور ایک طرف طاقتوں کو بدی کا موقع عطا کر دیا ہے اس لئے لازماً اپنے کمزور بندوں کی حفاظت کی ذمہ داری خدا تعالیٰ پر ہوگی۔پس اس کی آسمانی تائید کو حاصل کرنے کا ایک ہی طریق ہے کہ خدا سے تعلق جوڑا جائے اور جس حد تک ممکن ہوا اپنے نفوس کی اصلاح کی جائے۔اسلام کے نام پر آئندہ کبھی کوئی بدی اختیار نہ کی جاۓ۔Terrorism کا تصور ہی مسلمانوں کی لغت سے نکل جانا چاہئے۔شرارتیں کرنا اور دوسروں کو دکھ دے کر بعض مسائل کو زندہ رکھنا یہ جاہلانہ باتیں ہیں ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔خود امن میں آجاؤ۔خود اپنے تعلقات کو درست کر لو۔غیر قوموں سے اپنے تعلقات کو درست کرو اور صبر کے ساتھ انتظار کرو پھر دیکھو کہ کس طرح خدا کی تقدیر دنیا کی ہر دوسری قوم کی تدبیر پر غالب آجائے گی۔خطبہ ثانیہ کے دوران حضور انور نے فرمایا! آج خطبہ گزشتہ دو خطبوں سے بھی زیادہ لمبا ہو گیا ہے کیونکہ میں اس کو ختم کرنا چاہتا تھا۔یہ ایک مجبوری تھی جو اس مضمون کو زیر بحث لایا گیا ہے ورنہ دل یہی چاہتا ہے کہ واپس اپنے پہلے مضمون کی طرف جلد لوٹیں یعنی یہ کہ عبادت کیا ہے اور اس کی کیا لذتیں ہیں، یہ لذت کس طرح حاصل کی جاتی ہے۔سورہ فاتحہ کیا سبق دیتی ہے۔تو میں یہ فیصلہ کر کے آج آیا تھا کہ چاہے جتنی دیر ہو جائے اس مضمون سے آج پیچھا چھڑا لینا ہے اور دوبارہ اپنے دائمی مضمون کی طرف یعنی جہادا کبر کی طرف لوٹنا ہے تو انشاء اللہ آئندہ خطبے سے پھر وہی نماز کا مضمون شروع ہوگا۔