خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 354 of 376

خلیج کا بحران — Page 354

۳۵۴ ۸ مارچ ۱۹۹۱ء حضرت نواس بن سمعان بیان کرتے ہیں کہ ایک روز آنحضرت ﷺ نے دجال کا ذکر فرمایا اور تفصیل سے اس کے حالات بیان کرتے ہوئے فرمایا۔یہ حدیث تو بہت طویل ہے۔میں اس میں سے صرف چند فقرے یہاں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔آپ نے فرمایا :انہ خارج خلة بين الشام والعراق کہ وہ شام اور عراق کے درمیان کے علاقے سے ظاہر ہوگا۔دائیں بائیں جدھر رخ کرے گا قتل و غارت کا بازار گرم کرتا چلا جائے گا۔پھر فرمایا:۔اس میں ایسے ابر باراں کی سی تیزی ہوگی جے پیچھے سے تیز ہوا دھکیل رہی ہو۔“ ( جیسے آج کل کے جیٹ (Jet ) ہوائی جہاز اڑتے ہیں ) پھر فرمایا:۔کہ ایسے ہی حالات میں اللہ تعالیٰ مسیح موعود کو مبعوث فرمائے گا اور انہیں بذریعہ وحی یہ خبر دے گا کہ انی قد اخرجت عبادا لى لا يدان لاحد بقتالهم (مسلم کتاب الفتن حديث 66 نمبر : ۵۲۲۸) کہ میں نے اب کچھ ایسے لوگ بھی برپا کئے ہیں جن سے جنگ کی کسی میں طاقت نہیں۔“ پھر مزید فرمایا کہ اللہ تعالیٰ یا جوج ماجوج کو بر پا کرے گا اور وہ ہر بلندی سے تیزی کے ساتھ پھلانگتے ہوئے گزر جائیں گے۔فرمایا:۔یا جوج ماجوج کی اس ٹڈی دل فوج کے اگلے حصے، فيمروا لهم على بحيرة طبرية فيشربون ما فيها، بحیرہ طبریہ کے پاس سے گزریں گے اور اس کا سارا پانی پی جائیں گے اور جب اس فوج کا آخری حصہ وہاں پہنچے گا تو کہے گا کہ یہاں کبھی پانی ہوا کرتا تھا وہ اب کہاں گیا۔ان روح فرسا حالات میں نبی اللہ سیح موعود علیہ السلام اور آپ کے ساتھی رضی اللہ عنہم اللہ کے حضور دعا ئیں کریں گے اور اللہ تعالیٰ ان کی دعاؤں کو قبول فرمائے گا۔فیرسل الله تعالى عليهم النغف في رقابهم اور یا جوج ماجوج کی گردنوں میں کیڑے پیدا کر دے گا۔(مسلم کتاب الفتن حدیث نمبر ۵۲۲۸) جو بڑے پیمانے پر تیزی سے ان کی ہلاکت کا موجب بنیں گے۔پھر ایک دوسری حدیث میں حضرت اقدس محمد رسول اللہ علیہ فرماتے ہیں۔لم تظهر الفاحشة في قوم قط حتى يعلنوا بها الا فشافيهم الطاعون ولا وجاع التي لم تكن مضت في اسلا فهم الذين مضوا (ابن ماجہ کتاب الفتن حدیث نمبر : ۴۰۰۹)