خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 353 of 376

خلیج کا بحران — Page 353

۳۵۳ ۸ مارچ ۱۹۹۱ء گزشتہ تاریخوں میں یہود بار بار فلسطین پر بستے رہے لیکن ایک دفعہ بھی ایسا نہیں ہوا کہ Diaspora یعنی وہ سارا علاقہ جہاں یہود منتشر ہوئے تھے، ان تمام علاقوں سے دوبارہ اکٹھے کئے گئے ہوں۔یہ تاریخ عالم کا پہلا واقعہ ہے۔پس دیکھیں قرآن کریم کی پیشگوئیاں کس صفائی اور کس حیرت انگیز شان کے ساتھ پوری ہوئی ہیں اور آئندہ پوری ہوں گی۔پس یہود کو میں بتانا چاہتا ہوں کہ ان پیشگوئیوں سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا کی تقدیر نے تم پر رحم کھاتے ہوئے اور Nahtsi نائسی جرمنی میں تم پر مظالم کی جو حد ہوگئی تھی ان کے نتیجے میں یہ فیصلہ کیا کہ بہت ہو چکی ، شاید اب تم نے سبق سیکھ لئے ہوں۔تمہیں معاف کر دیا گیا اور تمہیں دوبارہ وہاں ایک غلبہ عطا کیا گیا۔اس غلبے کو توڑنے کی مسلمان حکومتوں کو طاقت نہیں ہوگی کیونکہ احادیث سے پتا چلتا ہے کہ ایک فتنہ اٹھے گا جو عراق اور شام کے درمیان سے اس چھوٹے سے سمندر کے رستے سے نکلے گا اور اس کا سارا پانی پی جائے گا جو اسرائیل میں واقع ہے، بحیرہ طبر یہ اس کا نام ہے جس کا حدیث میں ذکر ہے۔یہ اسرائیل کے علاقے میں ایک چھوٹا سا سمندر ہے جس میں سے دریائے Jordan ہوکر گزرتا ہے۔فرمایا: وہاں بہت بڑا لشکر جمع ہو گا اور وہ نکلے گا اور بہت بڑی طاقت ہے جو یلغار کرے گی۔پس اگر اسرائیل نے پچھلی دو تاریخی ہلاکتوں سے سبق حاصل نہ کیا اور تلخ تجربوں سے سبق حاصل نہ کیا تو تمام دنیا کے امن کو درہم برہم کرنے کے لئے اسرائیل سے فتنہ اٹھے گا اور یہ مقدر ہے اس کو دنیا کی کوئی طاقت بدل نہیں سکتی۔پھر خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم اسے تباہ کریں گے اور ہم ایسا انتظام کریں گے کہ وہ اور ان کے ساتھ ساری طاقتیں جو ان کی مرد اور مددگار ہیں ان کے ٹکڑے ٹکڑے اڑادیں اور ان کو عبرت کا نشان بنادیں۔آخری پیغام اس حدیث میں یہ ہے کہ خدا تعالیٰ ان کے گلوں میں ایسی گٹھلیاں نکالے گا اور ایسی بیماریاں پیدا کرے گا جن کے ساتھ وہ بڑے ہولناک طریق پر، بڑے وسیع پیمانے پر ہلاک ہوں گے اور یہ وہی بیماری ہے Aids جس کا میں نے ذکر کیا تھا۔یہ جو میرا اندازہ ہے یہ آنحضرت ﷺ کی حسب ذیل پیشگوئیوں پر مبنی ہے جو کہ حدیث میں تفصیل کے ساتھ ملتی ہیں۔الله