خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 177 of 376

خلیج کا بحران — Page 177

122 ۲۵ جنوری ۱۹۹۱ء اسرائیلی گھر گرا تھا تو عراق کے سینکڑوں گھر گرائے جاچکے ہیں۔اگر ایک اسرائیلی زخمی ہوا تھا تو ہزاروں عراقی مارے جاچکے ہیں۔وہاں سے آنے والے بتاتے ہیں کہ بعض علاقوں سے لاشوں کی بد بو کی وجہ سے گزرا نہیں جاتا۔جلے ہوئے گوشت کی بد بو بھی اٹھتی ہے اور متعفن گوشت کی بد بو بھی اٹھ رہی ہے اور علاقوں کے علاقے آبادی سے خالی ہو گئے ہیں۔یہ امریکہ کا وہ انتقام ہے جو یہود کی خاطر اس نے لیا ہے اور یقیناً یہ اس معاہدے میں شامل تھا جس کی باتیں ابھی منظر عام پر نہیں آئیں۔عملاً وہ منظر عام پر آ گیا ہے اور ابھی یہ انسانیت کے علمبردار ہیں Moral High Grounds سے باتیں کرتے ہیں اور باقی دنیا کو کہتے ہیں تم ذلیل تمہیں اتنا بھی نہیں پتہ کہ انسانیت ہوتی کیا ہے۔تم نے نہتے معصوم اسرائیلیوں پر بمباری کی۔وہ غلط ہے۔اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا کہ نہتے پُر امن شہریوں کو کسی رنگ میں بھی تکلیف پہنچائی جائے۔حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کا دین اس کی اجازت نہیں دیتا۔جب بھی بعض علاقوں میں جہاد یعنی تلوار کا جہاد ہوا کرتا تھا تو آپ افواج کو بھیجنے سے پہلے ان کو تفصیل سے اور تاکید سے جو ہدایت فرمایا کرتے تھے۔اس میں ایک یہ بھی ہدایت تھی کہ شہریوں کو ، بوڑھوں کو عورتوں کو اور بچوں کو ہرگز تہ تیغ نہیں کرنا۔ان کو کوئی نقصان نہیں پہنچانا۔(ابو داؤد کتاب الجہاد حدیث نمبر: ۲۲۴۷) پس فی الحقیقت یہ صحیح اسلامی تعلیم حضرت محمد مصطفی امیہ کی نصیحتوں اور آپ کی سنت سے ملتی ہے۔پس میں یہ نہیں کہتا کہ عراق نے درست کیا مگر میں یہ ضرور کہتا ہوں کہ اگر عراق نے غلط بھی کیا تو دنیا کے ان قواعد و دستور کے مطابق جن کے تم علمبردار بنے ہوئے ہو عراق کی اس کارروائی کو ایک جوابی کارروائی تصور کرنا چاہئے تھا۔اسرائیل میں بسنے والے وہ مسلمان جن پر آئے دن گولیاں چلائی جاتی ہیں اور نہتوں کو تہ تیغ کیا جاتا ہے اور گولیوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔اگر ان کا انتقام لیا جائے تو تم یہ نہیں کہتے کہ یہ انتقام ہے اور جائز ہے۔تم یہ کہتے ہو کہ یہ سراسر غیر منصفانہ، بہیمانہ ظلم ہے اور زیادتی ہے جس کا بدلہ لینے کا اسرائیل کو حق ہے اور پھر مخفی معاہدے ان سے یہ کرتے ہو کہ ہم تمہیں روپیہ بھی دیں گے اور تمہاری خاطر ایسے خوفناک مظالم ان پر کریں گے کہ تمہارے دل ٹھنڈے ہوں