خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 176 of 376

خلیج کا بحران — Page 176

127 ۲۵ / جنوری ۱۹۹۱ء دنیا اس پر شور مچادیتی ہے۔فلسطین یاد نہیں رہتا، اسرائیل کا وہ فضائی حملہ یاد نہیں رہتا جو ایٹمی پلانٹ پر کیا گیا تھا اور اس کے بعد آئندہ مظالم کی نہایت خوفناک داغ بیل ڈالی جاتی ہے۔یہ وہ باتیں ہیں جن کے نتیجے میں مسلمانوں کے جذبات زیادہ سے زیادہ مجروح ہوتے چلے جارہے ہیں اور مسلے چلے جارہے ہیں اور جب وہ ان جذبات کا اظہار کریں تو قو میں ان کو مخاطب کر کے کہتی ہیں کہ آج فیصلہ کرو کہ تم اسلام کے وفادار ہو گے یا ہمارے وطن کے وفادار رہو گے یہ کونسا انصاف ہے۔حقائق کے اظہار پر وطنیت کا سوال اٹھانا ہی ظلم ہے۔اگر یہ باتیں جو بچی اور حقیقتیں ہیں ان کا مسلمان اظہار کرتا ہے تو اس کو حق حاصل ہے لیکن جو بھیا نک بات ظاہر ہو چکی ہے اس سے زیادہ بھیا نک باتیں ابھی ظاہر ہونے والی ہیں۔اسرائیل کے ساتھ کچھ مخفی گفت وشنید امریکہ نے کی اور اپنے ایک بہت ہی اہم افسر کو، اپنے مرکزی حکومت کے نمائندہ کو ان کے پاس بھجوایا اور باتوں کے علاوہ جو مخفی تھیں اور کچھ عرصے تک مخفی رہیں گی جب تک وہ عملی طور پر دنیا کے سامنے ظاہر نہ ہوں ، ایک یہ بھی تھی کہ اسرائیل کو چھ بلین سے زیادہ ڈالر دیئے گئے اس لئے نہیں کہ تم جوابی انتقامی کارروائی نہ کرو بلکہ اس لئے کہ سر دست نہ کرو اور بعد میں کر لینا جب ہم مار کر فارغ ہو جائیں تو جو کچھ بچے گا اس پر تم اپنا بدلہ اتار لینا۔بعض دفعہ پرانے زمانوں میں رواج تھا کہ اگر کوئی ظالم مرجاتا تھا یا کوئی شخص کسی مرے ہوئے کو ظالم سمجھتا تھا اور انتقام لینا چاہتا تھا تو اس کی لاش اُکھیڑ کر اسے پھانسی لگا دیا جاتا تھا تو عملاً جو معاہدہ ہوا ہے وہ یہ ہے کہ لاش بنانے تک ہمیں موقعہ دو۔ہم تمہاری یہ خدمت کر رہے ہیں اور کرتے چلے جائیں گے۔جب مار بیٹھیں گے تو پھر تمہارے سپرد کر دیں گے پھر اس لاش کو تم جہاں مرضی لٹکائے پھرنا۔اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب انصاف کی باتیں ہیں؟ کیا یہ انسانیت کی باتیں ہیں؟ لیکن ایک اور بات جود نیا کی نظر میں نہیں آرہی وہ یہ ہے کہ عراق کی Civilion Population یعنی پرامن عام آبادی پر جو خطر ناک بم گرائے گئے ہیں۔یہ اس واقعہ کے بعد گرائے گئے ہیں اور زیادہ تر مغربی عراق کی آبادی اس سے متاثر ہوئی ہے اور اگر یہ ظلم تھا تو عملاً اس سے ہزاروں گنا بڑا ظلم عراق پر کیا جا چکا ہے۔اگر ایک