خلیج کا بحران — Page 96
۹۶ ۱۶ نومبر ۱۹۹۰ء گئے تو ہماری شخصیت اس میں کھوئی جائے گی اور ہم اُن سے مغلوب ہو جا ئیں گے اور اُزبکستان اور ساتھ کے ہمسایہ ترک صوبوں میں لمبے عرصہ سے لڑائیاں جاری ہیں اور اختلافات ہیں۔افریقہ کی افسوسناک صورت حال جہاں تک نسلی تعصبات کا تعلق ہے اُن میں ہمیں اب افریقہ پر نظر کرنی چاہئے۔دراصل یہ افریقہ میں جتنے بھی اختلافات ہیں اور خطرات ہیں اس کا پس منظر جیسا کہ میں نے گزشتہ خطبے میں بیان کیا تھا، مغربی قوموں کا افریقہ پر تسلط ہے جس نے ماضی میں کئی قسم کے رنگ دکھائے اور قوموں کو ٹکڑے ٹکڑے کیا۔ایک زبان بولنے والوں کو الگ الگ کیا۔قبائل کی اس طرح تقسیم کی کہ ملک کے اندر بھی اختلافات دبنے کی بجائے اور زیادہ نمایاں ہو کر اُبھر نے لگے اور اب موجودہ حالت میں افریقہ میں ایسے خطرات در پیش ہیں کہ پہلے اگر روس اور امریکہ کی رقابت کے نتیجے میں بعض قوموں کو بعض قوموں کے خلاف تحفظات حاصل ہو گئے تھے ، اب وہ تحفظات قائم نہیں رہ سکتے تھے اور کچھ عرصے کے بعد ان کے اندرونی جھگڑے رنگ لانے لگیں گے۔چنانچہ لائبیریا میں جو کچھ ہوا ہے یہ دراصل اسی کا نتیجہ ہے۔اس سے پہلے لائبیریا پر مغربی قوموں کی بڑی گہری نظر رہتی تھی اور اختلافات جو قومی اختلافات تھے اُن کو یہ لوگ کسی حد تک سنبھالے ہوئے تھے۔لیکن جب روس اور امریکہ کی رقابت ختم ہوئی تو اچانک وہ خطرے اُٹھ کھڑے ہوئے اور سارے افریقہ میں اب جمہوریت کے نام پر Multi Party سسٹم کو نافذ کرنے کے لئے آوازیں اُٹھنی شروع ہوئی ہیں۔تو سیاسی نقطہ نگاہ سے بھی افریقہ مختلف خطرات کا شکار ہے یعنی سیاسی نقطہ نگا سے مراد یہ ہے کہ کونسا سیاسی نظام وہاں جاری ہونا چاہئے ، اس نقطہ نگاہ سے بھی قومی نقطہ نگاہ سے بھی اور قوموں کے درمیان سرحدی جھگڑوں کے لحاظ سے بھی اور بدقسمتی سے مذہبی نقطہ نگاہ سے بھی کئی قسم کے خطرات در پیش ہیں اور مشکل یہ ہے کہ اُن خطرات کو دور کرنے کے لئے کوئی اجتماعی کوشش ابھی شروع ہی نہیں کی گئی۔اس سے آپ کو اندازہ ہوگا کہ یہ جب کہتے ہیں کہ ہم نے ساری دنیا کو اکٹھا کر کے عراق کے