خلیج کا بحران — Page 97
۹۷ ۱۶ نومبر ۱۹۹۰ء خطرے کی طرف متوجہ کر دیا اور بہت ہی عظیم الشان کارنامہ ہوا ہے امن عالم کے قیام کے سلسلہ میں ، تو محض فرضی باتیں ہیں اور جھوٹے حقیقت سے خالی دعوے ہیں۔یہ سارے خطرات جو میں نے آپ کو دکھائے ہیں یہ چند نمونے ہیں۔بے شمار خطرات اس نوعیت کے ہیں جو آتش فشاں مادہ کی طرح جگہ جگہ دبے بڑے ہیں۔بعض میں سرسراہٹ پیدا ہورہی ہے اور وہ پھٹنے پر تیار بیٹھے ہیں اور بعض کچھ وقت کے بعد پھٹیں گے لیکن جو تفر یقیں ہیں یعنی قومی ،لسانی ، مذہبی ، یہ تفریقات اپنی جگہ کھل کھیلنے کے لئے تیار بیٹھی ہیں۔میں چند نمونے آپ کے سامنے اور رکھتا ہوں۔نسلی تعصبات کی بعض مزید مثالیں گر یک اور ٹرکش یعنی یونانی اور ترک قوم کے دیرینہ اختلافات جو نیٹو کی وجہ سے دبائے گئے تھے یعنی گریس (Greece) بھی مغربی ملک تھا اور ترکی بھی ایک حصے میں مغربی ہونے کے لحاظ سے یعنی یورپین کہلانے کی وجہ سے نیٹو کا ممبر تھا اس لئے ان کے مفادات کا تقاضا تھا کہ جب تک روس کا خطرہ درپیش ہے ان کو آپس میں نہ لڑنے دیا جائے۔لیکن وہ اختلافات دبے نہیں ختم نہیں ہوئے بلکہ کچھ عرصے کے لئے وقتی مفادات نے ان کو نظر انداز کئے رکھا لیکن موجود ہیں۔اسی طرح آرمینیا کا میں نے آپ کے سامنے ذکر کیا ہے۔ہندوستان میں لسانی جھگڑے ہیں۔سری لنکا میں لسانی تفریق کے نتیجے میں اور قومی تفریق کے نتیجے میں خوفناک جھگڑے ہیں۔نسلی برتری کے اعتبار سے یہود کی طرف سے تمام دنیا کو آج بھی اسی طرح خطرہ ہے۔جیسا کہ گزشتہ کئی ہزار سال سے رہا ہے اور یہودی قوم دنیا سے نسلی برتری کے تصور کو مٹانے میں بظاہر صف اول کا کر دار ادا کر رہی ہے اور دنیا میں بہت پرو پیگنڈا کیا جا رہا ہے۔یہودیوں کی طرف سے کہ نسلی تقسیموں کو مٹانا چاہئے اور نسلی تعصبات کو مٹانا چاہئے ، یہ صرف اس لئے کیا جارہا ہے کہ ان کو خطرہ ہے کہ نسل کے نام پر یہود کو کسی وقت بعض قو میں اپنے غضب کا نشانہ نہ بنالیں لیکن جہاں تک یہود کی غیر قوموں پر نسلی برتری کا تعلق ہے ان کا نظریہ ہٹلر