خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 95 of 376

خلیج کا بحران — Page 95

۹۵ ۱۶ نومبر ۱۹۹۰ء کل ترک ۴۴ ملین ہیں یعنی ہم کروڑ ۴۰ لاکھ اور سوویت یونین میں ۴۲ ملین یعنی ہم کروڑ اور ۲۰ لاکھ اس طرح چین میں سے ملین گویا ان دونوں اشترا کی ملکوں میں بسنے والے ترک اپنی مجموعی طاقت کے لحاظ سے ترکی سے بھی زیادہ ہیں۔ترکی میں بسنے والے ترکوں سے بھی زیادہ ہیں لیکن ان کا رُجحان ان ملکوں کی طرف نہیں جن میں یہ رہتے ہیں۔بلکہ ترکی کی طرف ہے اور ترکوں کا رجحان بھی اب ان کی طرف ہے اور ان کی آنکھیں کھل رہی ہیں۔میں جب پرتگال اور چین کے دورے پر گیا تو دونوں جگہ بلغاریہ کے ایمبیسیڈ رز نے مجھ سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی اور ملاقات کی اور اُن سے گفتگو کے دوران مجھے معلوم ہوا کہ یہ دونوں ترکی سے خطرہ محسوس کر رہے ہیں چنانچہ زیادہ تفصیل سے جب چھان بین کی گئی تو مجھے محسوس ہوا کہ یہ ترکی سے اس وجہ سے خائف ہیں کہ انہوں نے ماضی میں ترک قوموں پر کچھ زیادتیاں کی ہوئی ہیں اور اب جبکہ روس کی حفاظت کا سایہ اُن کے سر سے اُٹھ رہا ہے تو اُن کو خطرہ یہ ہے کہ ہم ترکی کے رحم و کرم پر چھوڑ ئیے جائیں گے اور ترک قوم اپنے تاریخی بدلے ہم سے لے گی۔چنانچہ اُس وقت تو مجھے علم نہیں تھا، یہاں آنے کے بعد جب میں نے مزید جستجو کی تو مجھے بلغاریہ کی پریشانی کی وجہ تو سمجھ میں آگئی۔۱۹۸۹ء میں یعنی پچھلے سال بلغاریہ نے بلغاریہ کے اندر بسنے والے ترکوں پر اتنے مظالم کئے کہ ایک ہی سال میں ۳ لاکھ ترک بلغاریہ سے ہجرت کر کے ترکی چلے گئے۔پس قومی عصبیتیں نہ صرف اس دور میں قائم ہیں بلکہ روس کے اندر برپا ہونے والے انقلاب کے نتیجے میں ابھر رہی ہیں۔پس بہت ہی جاہل انسان ہو گا جو یہ کہہ دے کہ دنیا ایک بڑے امن کے دور میں داخل ہورہی ہے۔بڑی بڑی جنگوں کے خطرے ٹل گئے ہیں۔عملاً یہ دبے ہوئے خطرے ہیں اب سر نکال رہے ہیں۔اس طرح آرمینیا اور ترکی کے درمیان دیرینہ مخالفتیں ہیں اسی طرح آذربائیجان جو روس کا ایک علاقہ ہے اور آرمینیا ان دونوں کے درمیان تاریخی مخاصمتیں چلی آرہی ہیں اور جو ترک روس میں بستے ہیں اُن میں بھی آپس میں ایک دوسرے سے اختلافات ہیں اور اُزبک ترک باقی ترکوں سے الگ اپنی ایک شخصیت کے متقاضی ہیں اور ان کو خطرہ ہے کہ اگر ہم روس کے دوسرے ٹرکوں کے ساتھ ملا دئے