خلیج کا بحران — Page 93
کا بحران ۹۳ ۱۶ نومبر ۱۹۹۰ء نہیں ہورہا یعنی وہ قومیں جن کی یہ زبانیں ہیں، ان سب کے ساتھ انصاف نہیں ہورہا۔تو ہندوستان کی ہر تقسیم کے پیچھے دراصل پس منظر میں عصبیت اور خود غرضی دکھائی دے گی۔ان کے نام مختلف ہو جائیں گے کہیں لسانی جھگڑے نظر آئیں گے، کہیں مذہبی جھگڑے نظر آئیں گے، کہیں قومی جھگڑے نظر آئیں گے، کہیں ذات پات کے جھگڑے نظر آئیں گے۔کہیں چھوٹی ذات کا ہندو جو ہے وہ ہزاروں سال سے اونچی ذات کے ہندو کے مظالم کا نشانہ بنا ہوا ہے اور ان کی چکی کے اندر پیسا جا رہا ہے اور اس کو کوئی انسانی شرف نصیب نہیں ہو سکا۔اس قدر ظالمانہ سلوک ہے یعنی عملاً سلوک کی بات نہیں میں کر رہا۔فلسفیاتی اور نظریاتی تفریق ایسی ہے کہ اس کے نتیجے میں ادنی قو میں جو ہیں وہ کسی انسانی شرف کی مستحق ہی نہیں ہیں۔حال ہی میں وی۔پی سنگھ صاحب کی جو حکومت ٹوٹی ہے اس کے ٹوٹنے کی وجہ حقیقت میں یہی ہے کہ انہوں نے عصبیتوں کے خلاف آواز بلند کی تھی۔انہوں نے انصاف کے حق میں جھنڈا بلند کیا تھا اور باوجود اس کے کہ خود اونچی قوم سے تعلق رکھتے تھے یعنی راجپوت قوم سے تعلق رکھتے تھے انہوں نے چھوٹی قوموں کے حقوق دلانے کے لئے ایک عظیم مہم کا آغا ز کیا اسی طرح مسلمانوں کے مذہبی تقدس کی حفاظت کی۔غرضیکہ یہ جو لڑائی ہندوستان میں اب شروع ہوئی ہے اس کے نام آپ کو مختلف دکھائی دیں گے۔تفریقیں مختلف نہج کی ہوں گی۔لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ انصاف کی کمی اور عصبیت کا عروج یہی وہ بنیادی حقیقت ہے جو سارے ہندوستان کے لئے ایک خطرہ بن کر ابھر رہی ہے اور یہ خطرہ دن بدن بڑھتا چلا جارہا ہے۔برطانیہ جیسا ملک جو بظاہر بیسویں صدی کے اب تو اکیسویں صدی شروع ہونے والی ہے۔بیسویں صدی کے آخری کنارے پر دنیا کے ممتاز ترقی یافتہ ممالک میں شمار ہوتا ہے، یہاں آج تک عصبیتیں کام کر رہی ہیں۔اور ان کی سیاست آج بھی عصبیتوں سے آزاد نہیں ہوسکی۔آئر لینڈ میں مذہبی عصبیت سیاست کے ساتھ مل کر اپنے جوہر دکھا رہی ہے۔دوسری قوموں کے اوپر حکومت کرنے کا جو تاریخی عمل ہے وہ باوجود اس کے کہ ہمیں رکا ہوا دکھائی دیتا ہے مگر واقعۂ جاری ہے انگریز کی حکومت دنیا سے سمٹ کر بظاہر اب اپنے علاقے میں آچکی ہے لیکن انگریز کی تجارتی حکومت انگریز کے