خلیج کا بحران — Page 94
۹۴ ۱۶ نومبر ۱۹۹۰ء سیاسی نفوذ کی حکومت آج بھی سب دُنیا میں جگہ جگہ پھیلی پڑی ہے اور یہ عصبیت کہ ہمیں حق ہے کہ ہم دنیا پر راج کریں اور اُن کی اقتصادیات پر بھی حکومت کریں، ان کے جغرافئے پر بھی حکومت کریں۔ان کے سیاسی جوڑ تو ڑ پر بھی حکومت کریں اور ان کو اپنی خارجہ پالیسی پر آخری اور مکمل اختیار نہ ہو بلکہ عملاً ہم اُن کی خارجہ پالیسی طے کرنے والے ہوں۔خواہ بظاہر دنیا ہمارے اور اُن کے درمیان اس کے اندر کوئی رشتہ نہ دیکھے لیکن اصولی اور وسیع پیمانے پر جو خارجہ پالیسی بنائی جاتی ہے۔یہ قومیں چھوٹی قوموں کو اس کے تابع دیکھنا چاہتی ہیں اور تب اُن کو پتا لگتا ہے کہ ہماری خارجہ پالیسی آزاد نہیں ہے جب اپنی خارجہ پالیسی کو اس رنگ میں تشکیل دینے کی کوشش کرتے ہیں جوان بڑی قوموں کی قائم کردہ کردہ حدود سے تجاوز کرنے کے مترادف ہو جاتی ہے۔یعنی تجاوز اختیار کرنے لگتی ہے یعنی عملاً یہ ہورہا ہے کہ بڑی قو میں چھوٹی قوموں کی خارجہ پالیسی اس طرح بناتی ہیں کہ انہوں نے خود بعض دائرے مقرر کر لئے ہیں۔ان دائروں کے اندر رہتے ہوئے یہ دوسری قوموں سے اپنے تعلقات اختیار کریں یا اُن میں تبدیلیاں پیدا کریں تو کوئی حرج نہیں لیکن جہاں ان دائروں سے باہر قدم رکھا وہاں ہم ضرور کوئی بہانہ ڈھونڈیں گے ان کے معاملات میں دخل دینے کا اور ان کو اس کی اجازت نہیں دی جائے گی۔تو برطانیہ بھی بذات خود عصبیتوں کا بھی شکار ہے اور ان کی عصبیت طرح طرح کے مظالم دنیا پر بھی تو ڑ رہی ہے۔روس میں نسلی عصبیتوں کے خطرات نسلی عصبیتوں میں ہمیں مثال کے طور پر روس میں اس وقت بہت سے خطرات دکھائی دیتے ہیں۔نسلی عصبیتوں کے لحاظ سے ترک قوم اس وقت ایسے تاریخی دور سے گزر رہی ہے کہ اس میں نئے نئے قسم کے خیالات اور اُمنگیں پیدا ہو رہی ہیں اور امر واقعہ یہ ہے کہ اس قوم نے آئندہ چند سالوں میں کوئی نہ کوئی ایسی حرکت کرنی ہے جس کے نتیجے میں بہت بڑے بڑے عالمی تغیرات بر پا ہو سکتے ہیں یا کل عالم کے امن پر اس کا اثر پڑ سکتا ہے۔میں نے گزشتہ خطبے میں بتایا تھا کہ ترکوں کی اکثریت ترکی سے باہر بستی ہے اور نصف سے زیادہ اُن میں سے سوویت یونین میں رہتے ہیں۔چنانچہ ترکی میں